خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 89 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 89

خطبات طاہر جلدم 89 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء رہا ہے اور صدر مملکت اپنے ایک بیان میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ یہاں مشرکین کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔بریلویوں اور دیوبندیوں یا نجدیوں اور بریلویوں کی اصل لڑائی اسی بات پر ہے۔بریلوی کہتے ہیں ہمیں مشرک کہا جاتا ہے حالانکہ ہم مشرک نہیں ہیں اور وہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تم مشرک ہو۔چنانچہ یہ ایک معنی خیز کلمہ ہے۔یہ تو نہیں کہ صدر کی زبان سے یونہی نکل گیا ہے یہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے مطابق آئندہ کی پالیسی کا اظہار کیا گیا ہے۔احمدیوں کو معین کرنے کے بعد کہ احمدیوں کی بھی یہاں کوئی جگہ نہیں ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ مشرکین کی بھی یہاں کوئی جگہ نہیں۔پس اس تاریخی پس منظر سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ نجدی حکومت کے قیام میں بھی یہی بحث جاری ہوئی تھی اور ترکی حکومت کے خلاف بھی انگریزوں نے مسلمانوں کو اسی بنا پر لڑایا تھا کہ یہ مشرک لوگ ہیں اور مشرک حکومت کی مدد کرنے والا ٹولہ ہے جو اس وقت تم پر نافذ ہو چکا ہے، اس لئے شرک کے خلاف جہاد کا جو اعلان تھا اسے انگریز نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر لیا اور مسلمانوں کی ایک عظیم مملکت پر اتنی بڑی ضرب لگائی گئی کہ اس کے بعد مشرق وسطی میں انگلستان یا فرانس کا داخلہ ایک طبعی نتیجہ تھا۔سلطنت ترکیہ جسے سلطنت عثمانیہ کہتے ہیں یہ اگر نہ ٹوٹتی تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا کہ مشرق وسطی میں انگریز یا مغربی طاقتوں کا دخل ہو جاتا۔تو اسی قسم کی ایک ہولناک سازش عالم اسلام میں آج دنیا کی بڑی طاقتوں کی طرف سے کی جارہی ہے وہی مغربی طاقتیں ہیں جو صرف آپس میں بعض مفادات کو ایک دوسرے کی طرف منتقل کر دیا کرتی ہیں کبھی مشرق وسطی کو انگریز سنبھال لیتا ہے کبھی امریکہ سنبھال لیتا ہے اور کبھی کسی اور ملک کے ذریعہ سے یہ چالیں چلی جاتی ہیں لیکن بنیادی مفادات ان سب کے مشترکہ ہیں۔پس وہی اہل حدیث اور دیو بندی فرقہ کے لوگ جنہیں پہلے استعمال کیا گیا تھا انہیں آج بھی استعمال کیا جارہا ہے۔لیکن ہمارا تو ایک خدا ہے جس پر ہمارا کامل انحصار ہے جس نے ہمیں کبھی نہیں چھوڑا جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اس نے وفا کے ہاتھ سے میری مدد کی ہے اور وہ وفا کا ہاتھ مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا لیکن ان لوگوں کا کیا بنے گا جو سادگی اور لاعلمی میں احمدیت کی دشمنی میں پاگل کر دیئے گئے ہیں اور ان کو ہوش نہیں رہی کہ اصل حملہ خودان پر ہورہا ہے۔ان کی حفاظت کی تو پھر کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔اس لئے اس قوم کے لئے دعا کریں