خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 951
خطبات طاہر جلدم 951 خطبه جمعه ۲۹/ نومبر ۱۹۸۵ء کرتا اور اس کے دل کو اپنا تخت گاہ بنالیتا ہے۔تب وہ اپنی روح سے نہیں بلکہ خدا کی روح سے دیکھتا اور خدا کی روح سے سنتا اور خدا کی روح سے بولتا اور خدا کی روح سے چلتا اور خدا کی روح سے دشمنوں پر حملہ کرتا ہے کیونکہ وہ اس مرتبہ پر نیستی اور استبلاک کے مقام میں ہوتا ہے اور خدا کی روح اس پر اپنی محبت ذاتیہ کے ساتھ تجلی فرما کر حیات ثانی اس کو بخشتی ہے۔پس اس وقت روحانی طور پر اس پر یہ آیت صادق آتی ہے۔ثُمَّ انْشَأْنُهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبْرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخُلِقِيْنَ 66 ( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد ۳ سورة النحل تالیس صفحه ۳۷۳) خدا کرے خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو بھی ہم میں سے ہر فردکو، مردوں کو بھی عورتوں کو بھی ، بڑوں کو بھی اور بچوں کو بھی وہ خلق آخر عطا کرے کہ جس کے نتیجہ میں ہم خدا کی روح سے سننا سیکھیں خدا کی روح سے بولنا سیکھیں ، خدا کی روح ہمارے رگ و پے میں سرایت کر جائے خدا کی روح سے اٹھیں اور خدا کی روح کے ساتھ سوئیں اور خدا کی روح کے ساتھ چلیں تا کہ غیر کی مجال نہ ہو کہ ان پر حملہ کرے جن پر حملہ کرنا گویا خدا پر حملہ کرنا ہو۔