خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 950
خطبات طاہر جلدم 950 خطبه جمعه ۲۹/ نومبر ۱۹۸۵ء سے کیا مراد ہے۔یہ تو ایک بڑا مکروہ نظارہ نظر آتا ہے کہ اپنے آقا کا بدن کھائے کوئی اور اپنے آقا کا خون پیئے یہ نظارہ طبیعت میں ایسی کراہت پیدا کرتا ہے کہ حیرت ہوتی نہ انہوں نے سمجھا وہ فقرہ اصل میں کیا تھا جس کے یہ معنی لئے گئے اور ساری قوم اب تک اصل حقیقت کو نہ پہچان سکی نہ اس کے تصور میں کبھی آئی کہ اس کے معنی ہیں کیا۔مسیح ثانی نے بھی جو محد مصطفی ﷺ کی امت کے مسیح ہیں اسی قسم کی فقرے بولے ہیں مگر اپنے متعلق نہیں خدا تعالی کے متعلق اور یہ ثابت فرما دیا کہ پہلے مسیح کی مراد کی تھی ، ہم پر یہ کھول دیا فرمایا: اس درجہ پر مومن کی روٹی خدا ہوتا ہے جس کے کھانے پر اس کی زندگی موقوف ہے اور مومن کا پانی بھی خدا ہوتا ہے جس کے پینے سے وہ موت سے بچ جاتا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ مومن کی زندگی کا ذریعہ ہے، اس کی قوت کا ذریعہ ہے، اس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔گویا اگر تم زندگی چاہتے ہو تو اس طرح کا تعلق خدا سے قائم کرو کہ گویا وہ تمہارے بدن میں داخل ہو گیا، تمہاری رگ و پے میں شامل ہو گیا، تمہارے خون میں سرایت کر گیا اور تمہاری رگوں میں دوڑنے لگا۔یہ مضمون تھا جو حضرت مسیح بیان فرمانا چاہتے تھے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ پاکیزہ بنوتو مجھے سے ایسی محبت کرو کہ گویا میں تمہارے وجود میں شامل ہو گیا ہوں لیکن وہ فقرہ اس قسم کے اشارے اپنے اندر رکھتا تھا کہ جو نسبتا کم ذہن لوگوں کی سمجھ سے بالا تھے اور مجبور اوہ لوگ ٹھوکر کھا گئے اور لاعلمی کی سزا اب تک پارہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو اپنی ذات کی بجائے خدا کی طرف منسوب کر کے اور خون کی جگہ پانی کا لفظ استعمال کر کے اس مضمون کو خوب کھول دیا ہے اور پھر ساتھ یہ بھی فرمایا: ” اور اس کی ٹھنڈی ہوا بھی خدا ہی ہوتا ہے جس سے اس کے دل کو راحت پہنچتی ہے۔اور اس مقام پر استعارہ کے رنگ میں یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ خدا اس مرتبہ کے مومن کے اندر داخل ہوتا اور اس کے رگ وریشہ میں سرایت