خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 949
خطبات طاہر جلدم 949 خطبه جمعه ۲۹/ نومبر ۱۹۸۵ء بلکہ محبت الہیہ کا کچھ ایسا ہی خاصہ ہے جو اپنے رنگ میں ظاہر وجود کو لے آتی ہے اور باطن میں عبودیت اور اس کا ضعف موجود ہوتا ہے“۔(ايضاً ) یہ دوسرا حصہ جو اس جملے کا ہے یہ بھی انتہائی گہرا اور عارفانہ کلام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کو پہچاننے کے لئے آپ کے روحانی کلام میں سے بعض دفعہ ایک ایک جملہ کافی ہو جاتا ہے۔ناممکن ہے کہ کوئی صحیح فطرت انسان ان فقرات کی تہ تک پہنچ جائے اور پھر وہم و گمان بھی اس بات کا کر سکے کہ یہ فقرے کہنے والا یا لکھنے والا کوئی جھوٹا ہوسکتا ہے۔یہ تو اندرون خانہ کے راز ہیں جو وہی بیان کر سکتا ہے جس کی اندرون خانہ تک رسائی ہو۔فرماتے ہیں کہ وہ جو بظاہر تمہیں الہی رنگ پکڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ان کے اندر پھر بھی عبودیت کی خامیاں موجود رہتی ہیں۔بشریت سے بالا وہ پھر بھی نہیں ہو سکتے۔جیسے آگ کسی لوہے کو اپنی لپیٹ میں لے لے اور اس حد تک لے لے کہ لوہے سے آگ کی صفات ظاہر ہونے لگ جائیں مگر بنیادی خاصیتیں جو لو ہے کی ہیں وہ اس شعلہ میں ڈھانپی تو جائیں گی لیکن حقیقت میں لوہے کی وہ بنیادی صفات قائم رہیں گی اور لوہا براہ راست آگ نہیں کہلا سکتا۔باطن میں عبودیت اور اس کا ضعف موجود ہوتا ہے۔اس درجہ پر مومن کی روٹی خدا ہوتا ہے جس کے کھانے پر اس کی زندگی موقوف ہے اور مومن کا پانی بھی خدا ہوتا ہے جس کے پینے سے وہ موت سے بچ جاتا ہے اور اس کی ٹھنڈی ہوا بھی خدا ہوتا ہے جس سے اس کے دل کو راحت پہنچتی ہے۔“ (ایضاً صفحہ: ۳۷۳) اب یہ فقرے بھی ایسے عظیم الشان ہیں کہ جن پر غور کرنے سے مسیح ثانی یعنی محمد مصطفی علا اللہ کے مسیح کی مسیح اول پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔پہلے مسیح نے کچھ فقرے ایسے کہے جس کے نتیجہ میں آپ کے حواریوں نے یہ سمجھا کہ ہم روٹی جو توڑتے ہیں وہ مسیح کا بدن کھاتے ہیں، مسیح کا گوشت کھاتے ہیں اور جو شراب پیتے ہیں وہ مسیح کا خون پیتے ہیں اور سوائے اس ظاہری رسم کے ان کو کچھ بھی حاصل نہ ہوا اور کبھی انہوں نے غور نہیں کیا کہ مسیح کا بدن کھانے سے کیا مراد ہے اور مسیح کا خون پینے