خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 948
خطبات طاہر جلدم 948 خطبه جمعه ۲۹/ نومبر ۱۹۸۵ء جب آسمان کی طرف سے اس کی روح پر ایک شعلہ نور نازل ہوگا اور اسے ایک نئی زندگی عطا ہوگی۔فرما یا فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخُلِقِيْنَ خدا کی تخلیق کا اصل حسن یہ ہے یعنی جانوروں سے انسان بنا دیا۔انسانوں سے محمد مصطفی علل پیدا کر دیئے فَتَبرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَلِقِيْنَ اتنا حسين نظارہ ہے۔ایسا عظیم الشان انقلاب ہے کہ بے ساختہ مومن کے دل سے آواز اٹھتی ہے فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَلِقِيْنَ بہت ہی بابرکت ہے وہ ذات ، وہ خدا جو اتنی حسین تخلیق کرنے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اور مومن اپنے اندر محسوس کر لیتا ہے کہ ایک نئی روح اس کے اندر داخل ہوگئی ہے جو پہلے نہیں تھی اس روح کے ملنے سے ایک عجیب سکینت اور اطمینان مومن کو حاصل ہو جاتی ہے اور محبت ذاتیہ ایک فوارہ کی طرح جوش مارتی اور عبودیت کے پودا کی آبپاشی کرتی ہے۔اور وہ آگ جو پہلے ایک معمولی گرمی کی حد تک تھی اس درجہ پر وہ تمام و کمال افروختہ ہو جاتی ہیں اور انسانی وجود کے تمام خس و خاشاک کو جلا کر الوہیت کا قبضہ اس پر کر دیتی ہے اور وہ آگ تمام اعضاء پر احاطہ کر لیتی ہے تب اس لوہے کی مانند جو نہایت درجہ آگ میں تپایا جائے یہاں تک کہ سرخ ہو جائے اور آگ کے رنگ پر ہو جائے اس مومن سے الوہیت کے آثار اور افعال ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ لوہا بھی اس درجہ پر آگ کے آثار اور افعال ظاہر کرتا ہے مگر یہ نہیں کہ وہ مومن خدا ہو گیا ہے بلکہ محبت الہیہ کا کچھ ایسا ہی خاصہ ہے جو اپنے رنگ میں ظاہر وجو د کو لے آتی ہے“۔( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد ۳ سورۃ النحل تالیس صفحه : ۳۷۳) محبت الہیہ کا کچھ ایسا ہی خاصہ ہے جو اپنے رنگ میں ظاہر وجود کو لے آتی ہے۔یہ خلاصہ ہے اہل اللہ کا۔یعنی منہ سے دعوے ہزار کئے جائیں یا انسان دعوے نہ بھی کرے اور غلط فہمی میں مبتلا ہو جائے کہ میں باخدا انسان بن گیا ہوں اس کی پہچان کیا ہے؟ کس سے پتہ چلے کہ یہ غلط فہمی تھی کس سے پتہ چلے کہ حقیقت میں انسان با خدا بن گیا ہے۔یہ وہ کسوٹی ہے جس پر یہ باتیں پر کھی جاسکتی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمائی ہے۔فرمایا: