خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 947 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 947

خطبات طاہر جلدم پھر فرمایا: 947 خطبه جمعه ۲۹ / نومبر ۱۹۸۵ء اس بے ذوقی کی حالت میں یہ فرض کر کے کہ اس سے لذت اور ذوق پیدا ہو یہ دعا کرے کہ اے اللہ! تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں کیسا اندھا اور نا بینا ہوں اور میں اس وقت بالکل مردہ حالت میں ہوں میں جانتا ہوں کہ تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز آئے گی تو میں تیری طرف آجاؤں گا اس وقت مجھے کوئی روک نہ سکے گا لیکن میرا دل اندھا اور نا شناسا ہے تو ایسا شعلہ نور اس پر نازل کر کہ تیرا انس اور شوق اس میں پیدا ہو جائے تو ایسا فضل کر کہ میں نا بینا نہ اٹھوں اور 66 اندھوں میں نہ جاملوں۔“ اب یہاں بھی اس مضمون کو اسی آیت کریمہ سے باندھا ہے گویا جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ اس دنیا میں بھی اندھا رہے گا۔اس کا اصل تعلق نماز سے ہے جسے اس دنیا میں نماز کی لذت حاصل نہیں ہوگی اسے اس دنیا میں بھی لذت حاصل نہیں ہوگی یعنی خدا کو دیکھ نہیں سکے گا کیونکہ نماز کی آنکھوں سے انسان خدا کو دیکھتا ہے اور وہاں رؤیت خداوندی یہاں کی مقبول نمازوں کے نتیجہ میں ہمیں حاصل ہوگی۔فرمایا ” جب اس قسم کی دعا مانگے گا اور اس پر دوام اختیار کرے گا تو وہ دیکھے گا کہ ایک وقت اس پر ایسا آئے گا کہ اس بے ذوقی کی نماز میں ایک چیز آسمان سے اس پر گرے گی جو رقت پیدا کر دے گی“۔( ملفوظات جلد ۲ صفحہ۶۱۶) آخر پر ایک اقتباس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خلق آخر سے متعلق پڑھ کر سناتا ہوں۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن کریم میں جو خلق آخر کے متعلق فرمایا ثُمَّ أَنْشَأْنُهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخُلِقِينَ (المومنون : ۱۵) اس کا بھی حقیقی تعلق نماز ہی سے ہے۔اور نماز ہی کے نتیجہ میں خلق آخر عطا ہوتی ہے۔یہ مضمون جو قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے ثُمَّ انْشَائَهُ خَلْقًا اخر اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے انسان کو ایک ظاہری بدن تو عطا کر دیا، اس کو بظاہر انسان بنادیا لیکن وہ بہائم سے ابھی جدا نہیں ہوا اور جب تک خدا تعالیٰ اسے اپنے فضل کے ساتھ ایک نئی زندگی نہ بخشے اسے بہائم سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔وہ انسان کہلانے کا مستحق تب ہو گا