خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 946 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 946

خطبات طاہر جلدم 946 خطبه جمعه ۲۹ نومبر ۱۹۸۵ء یہ بھی بعض مبتدی جو ٹھو کر کھاتے ہیں ان کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیسی پیاری اور واضح ہدایت دے دی۔بعض لوگ کہتے ہیں نماز میں لذت ہی نہیں آتی تو فائدہ کیا اور نماز چھوڑ دیتے ہیں یا نماز سے بے رغبتی اختیار کر جاتے ہیں فرمایا: ترک نماز نہ کرے بلکہ نماز کی اور کثرت کرے جیسے ایک نشے باز کو جب نشہ نہیں آتا تو وہ نشہ کو چھوڑ نہیں دیتا بلکہ جام پر جام پیا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر اس کو لذت اور سرور آجاتا ہے۔پس جس کو نماز میں بے ذوقی پیدا ہواس کو کثرت کے ساتھ نماز پڑھنی چاہئے۔( ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۳۱۰) اور نمازوں کو با قاعدہ التزام سے پڑھو۔بعض لوگ صرف ایک ہی وقت کی نماز پڑھ لیتے ہیں وہ یا درکھیں کہ نمازیں معاف نہیں ہوتیں یہاں تک کہ پیغمبروں تک کو معاف نہیں ہوئیں۔پھر فرماتے ہیں: نماز کیا چیز ہے۔نماز دراصل رب العزت سے دعا ہے جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا اور نہ عافیت اور خوشی کا سامان مل سکتا ہے۔جب خدا تعالیٰ اس پر اپنا فضل کرے گا اس وقت اسے حقیقی سرور اور راحت ملے گی ، اس وقت سے اس کو نمازوں میں لذت اور ذوق آنے لگے گا۔جس طرح لذیذ غذاؤں کے کھانے سے مزہ آتا ہے اسی طرح پھر گر یہ اور پکار کی لذت آئے گی اور یہ حالت جو نماز کی ہے پیدا ہو جائے گی۔اس سے پہلے جیسے کڑوی دوا کو کھاتا ہے تا کہ صحت حاصل ہو اسی طرح اس بے ذوقی نماز کو پڑھنا اور دعائیں مانگنا ضروری ہے“ ( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۶۱۵) یعنی لذت کے نتیجہ میں نہیں تو شفاء کے حصول کی خاطر دوا سمجھ کے ہی نماز کے ساتھ چمٹا رہے اس کو ترک نہ کرے اس سے غافل نہ رہے۔جس طرح بن پڑے ضرور نماز ادا کرے۔فرمایا اس کے بعد لذت پیدا ہو جائے گی انشاء اللہ کیونکہ یہ حالت کسی بیماری کا پتہ دیتی ہے اور اس بیماری کی اصلاح کے لئے بھی دوا نماز ہی ہے۔