خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 936
خطبات طاہر جلد ۴ 936 خطبه جمعه ۲۹ نومبر ۱۹۸۵ء کچھ علامتیں نماز کی باہر سے تعلق رکھتی ہیں یعنی معاشرہ سے اور کچھ علامتیں انسان کے اندر اپنی ذات کے اندر ڈوب کر معلوم کی جاتی ہیں ۔ گزشتہ خطبہ میں میں نے بعض ایسی علامات کا ذکر کیا تھا جو معاشرہ کے آئینہ میں دیکھی جاسکتی ہیں اور پہلی آیت میں انہیں کا ذکر فرمایا گیا ہے وَالَّذِينَ هُمْ لِاَ مُنْتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رُعُونَ ۔ کچھ دوسری علامتیں ہیں جن کا انسان کے نفس سے، اس کے قلب سے اس کے اندر پیدا ہونے والے بار یک دربار یک روحانی تغیرات سے ہے اور ان کا ذکر فرماتے ہوئے عَلى صَلَوتِهِمْ يُحَافِظُونَ فرمایا گیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہاں حفاظت کا کیا مضمون ہے؟ بعض اوقات تو حفاظت صرف فرض کے طور پر کی جاتی ہے جیسے چوکیدار کسی گھر کی یا بنک کی حفاظت کرتا ہے اور بعض اوقات حفاظت محبت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ یعنی محبت حفاظت کا خیال پیدا کرتی ہے اور وہ حفاظت اس فریضۂ حفاظت سے مختلف نوعیت کی حفاظت ہوتی ہے۔ انسان جب کسی سے محبت کرتا ہے تو جتنی اس کی محبت بڑھتی چلی جائے اتنا ہی حفاظت کا معیار بلند تر ہوتا چلا جاتا ہے لیکن یہ خاصہ صرف انسان کے ساتھ ہی نہیں جانوروں میں بھی یہ جذبہ بڑی شدت کے ساتھ نمایاں دکھائی دیتا ہے ۔ ایک مرغی جو اپنے چھوٹے چھوٹے چوزوں سے پیار کرتی ہے۔ بظاہر اس مرغی میں حفاظت کرنے کی اہلیت نہیں ہوتی ، چھوٹے چھوٹے جانوروں سے بھی وہ ڈرتی ہے بلی یا کتے یا چیل کے ساتھ مقابلہ کا تو کوئی سوال ہی نہیں ، کوئی کا جوڑ ہی نہیں لیکن جب محبت کے نتیجہ میں حفاظت کا خیال پید ہوتا ہے، جب اپنے چوزوں سے پیار کے نتیجہ میں وہ حفاظت کرنا چاہتی ہے تو ایسا بپھر جاتی ہے، ایسا اس میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے، ایسا عزم اس میں پیدا ہو جاتا ہے ایسی غیر معمولی قوت آجاتی ہے کہ وہ پھر بلی یا کتے سے نہیں ڈرتی بلکہ ایسی مرغی سے بعض دفعہ دوسرے جانور دامن بچا کر گزرتے ہیں اور اگر وہ حفاظت نہ بھی کر سکے تو حفاظت کے دوران جان دے دیتی ہے۔ ایسا شدت کے ساتھ جھپٹتی ہے کہ وہ نظارہ دیکھنے سے انسان پر خوف طاری ہو جاتا ہے ۔ یہ حفاظت جو ہے اس کا مقام ہی بالکل اور ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہاں نماز کے ساتھ جس حفاظت کا ذکر فرمایا گیا وہ کیا حفاظت ہے اور اندرونی تغیرات کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے؟ جب میں نے کہا کہ اس حفاظت کا اندرونی تغیرات سے تعلق ہے اور باطن میں پیدا ہونے والی علامتیں بتائی گئیں ہیں تو یہ مضمون کس طرح اس سے جوڑ کھاتا ہے۔