خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 924
خطبات طاہر جلد چہارم 924 خطبه جمعه ۲۲/ نومبر ۱۹۸۵ء سے وہ بنالیتا ہوں تو اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن۔دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے یعنی میں ہی اس کا کارساز ہو جاتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کو دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ چاہتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔پس یہ حلول ہے صفات باری تعالیٰ کا بندے میں اس کی محبت اور خالص محبت کے نتیجہ میں جس کا نقشہ قرآن کریم کی اس آیت نے کھینچا اور جس کی تفسیر حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمائی کہ اس طرح ایک تو حید ایسی قائم ہوتی ہے کہ اس کو پھر آپ الگ الگ نہیں کر سکتے۔آخری مدد خدا ہی کی طرف سے آتی ہے مگر رسول کے وسیلہ سے پہلے ایک مومنوں کی جماعت تیار ہوتی ہے اور جب تک مومنوں کی جماعت با خدا نہیں بن جاتی ان کو مدد نہیں آتی اور مدد کا طریقہ ہی یہی ہے کہ مومنوں کی جماعت با خدا بنے اور باخدا بننے کے نتیجہ میں خدا ان کے وجود میں ظاہر ہونے لگ جائے اور ایسی کیفیت پیدا ہو جائے کہ ان پر حملہ کرنا گویا خدا پر حملہ کرنا ہو جائے۔یہ وہ مومنوں کی جماعت کی ولایت ہے جس کی تفسیر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمائی اور طریقہ سکھا دیا کہ ولایت کیسے حاصل ہوگی۔یہ کوئی فرضی قصہ نہیں ہے ولایت کا۔بعض لوگ ولایت ڈھونڈتے ہیں عجیب شکلوں میں ، عجیب لباسوں میں ، ظاہری تقوی میں۔ولایت تو کوئی ایسی چیز نہیں جو دور سے دیکھی جائے۔یہ تو ایسی چیز ہے جو اندرمحسوس کی جاتی ہے اور اپنی ولایت ڈھونڈنی چاہئے بجائے غیر کی ولایت کے ڈھونڈ نے کے اور جب تک مومنوں کی جماعت اپنی ذات میں اپنے وجود کے اندر ولایت نہیں ڈھونڈتی ان کی مدد کے لئے کوئی اور نہیں آئے گا۔خودداری کا بھی کیسا سبق اس میں دیا گیا ہے خود اعتمادی کا بھی کیسا سبق دیا گیا ہے تو حید کامل کا بھی کیسا سبق دیا گیا ہے اور یہ ساری چیزیں خدا تعالیٰ کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتا ہے کہ نماز سے حاصل ہوں گی۔فرائض پر عمل پیرا ہونے سے خدا کی دوستی نصیب ہوتی ہے، اس کا قرب نصیب ہوتا ہے۔اور جب نوافل میں انسان ترقی کرتا ہے تو پھر اللہ دوست بن جاتا ہے۔فرماتا ہے میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔اب یہ بھی ایک بڑا دلچسپ مضمون ہے جس میں ایک تھوڑی سی الجھن نظر آتی