خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 918 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 918

خطبات طاہر جلد ۴ 918 خطبه جمعه ۱۵/ نومبر ۱۹۸۵ء شروع کریں۔اور یہ کام ایسا ہے جو محض تنظیموں کا کام نہیں ہے یہ تو ہر فرد بشر کو کرنا پڑے گا ، ہر مرد کو کرنا پڑے گا ، ہر عورت کو کرنا پڑے گا اور ہر بچے کو بھی جہاں تک اس کے بس میں ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: نماز جنازہ کے کچھ اعلان کرنے ہیں۔نماز جمعہ اور اس کے بعد عصر کی نماز چونکہ ساتھ جمع ہوگی اس لئے عصر کی نماز کے معابعد چند نما ز ہائے جنازہ غائب پڑھائی جائیں گی۔ایک تو مکرمہ آمنہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم چوہدری محمد عبد اللہ خاں صاحب مرحوم سابق امیر جماعت کراچی کا جنازہ ہے۔یہ ہمارے موجودہ امیر جماعت لاہور ہیں چوہدری حمید نصر اللہ خاں صاحب ان کی والدہ، چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی بھا وجہ اور چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی بیٹی۔کئی رشتوں سے بہت ہی قابل احترام خاتون تھیں۔ذاتی طور پر بھی بڑی نیکیوں سے مزین۔ہمارے انگلستان میں آج کل چوہدری ناصر احمد صاحب سیال رہتے ہیں ان کی بھی ہمشیرہ تھیں اور خاص ان کی ایک خوبی یہ تھی کہ بہت ہی خوش خلق ، خوش مزاج لیکن ساتھ قول سدید سے کام لینے والی۔بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قول سدید سے کام لیا جائے تو خشک بات کی جائے اور بے مزہ بات کی جائے لیکن قول سدید کا یہ مطلب نہیں ہے۔اس لحاظ سے یہ بہت ہی اچھا نمونہ تھیں کہ طبیعت میں نہایت ہی مزاح تھا اور بہت ہی ہر دلعزیز تھیں لیکن قول سدید نہیں کبھی چھوڑا اور قول سدید میں تلخی کی بجائے ایک انوکھا پن ایک لذت پیدا کر دیا کرتی تھیں اس لئے اس لحاظ سے ان کو خاص امتیاز تھا۔حضرت مصلح موعود کا مجھے یاد ہے کہ ان کی باتیں بہت سن لیتے تھے کیونکہ وہ باتیں جو دوسروں کے لئے پہنچانی مشکل ہوتی تھیں یہ سیدھی پہنچاتی ضرور تھیں، باز نہیں آیا کرتی تھیں لیکن ایسے حسن ادا کے ساتھ کہ حضرت مصلح موعود اس کو ہمیشہ ہنس کر خوشی سے قبول کیا کرتے تھے خواہ وہ آپ پر ہی تنقید ہو۔بہر حال اس خاندان کو اوپر تلے بہت ہی نقصان پہنچا ہے پہلے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کا وصال ہوا ، پھر ان کے چھوٹے بھائی چوہدری اسد اللہ خاں صاحب کا وصال ہوا اب آپا آمنہ مرحومہ۔اللہ تعالیٰ اس خاندان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے ، اپنے قدموں میں جگہ دے۔