خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 914
خطبات طاہر جلد ۴ 914 خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۸۵ء خطرہ ہو کہ وہ عورت شریعت کے معاملہ میں باغیانہ رویہ رکھتی ہے ، اولا د کا دین خراب ہو جائے گا اس کا مستقبل تباہ ہو جائے گا پھر بالکل اور معاملہ ہے لیکن بسا اوقات یہ نہیں ہوتا بلکہ محض ایک دشمنی ایک انتقام دکھ دینے کا ارادہ ان چیزوں پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور صرف حق کی بحث ہو رہی ہوتی ہے۔ حق کی بحث کرنے والوں کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے حضور بھی حق کی بحثیں چلائیں گے؟ اگر حق مانگیں گے تو آپ کے پلے کچھ بھی نہیں رہے گا۔ احسان مانگیں گے تو پھر آپ کی بخشش کی توقع ہو سکتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے مقابل پر تو کسی کا حق نہیں ٹھہر سکتا۔ جو کچھ اس نے دیا ہے وہ اتنا زیادہ ہے اور جو کچھ اس کے لوازمات ہیں وہ ممکن نہیں کہ آپ ادا کر سکیں ۔ خدا کی دین کے مقابل پر جو حقوق آپ پر قائم ہوتے ہیں اس کا ہزارواں لاکھواں حصہ بھی آپ ادا نہیں کرتے ۔ تو حق کی بات چلاتے ہیں، اس طرح انصاف کی بات چلاتے ہیں تو پھر خدا کے سامنے بھی انصاف کی توقع لے کر جائیں، پھر حسن و احسان کا معاملہ بھول جائیں۔ احمدی معاشرہ محض انصاف پر قائم نہیں ہو سکتا۔ یہ تو پہلا قدم ہے پہلے اس کو انصاف سے بھریں ، پھر اگلے قدم اٹھائیں حسن واحسان سے بھر دیں، پھر ایتاءِ ذِی القربی کا مضمون اس میں پیدا کریں ، اس سے احمدیت کو سجا ئیں ، پھر ان قوموں کا استقبال کریں جن کو آپ اسلام کی طرف بلا رہے ہیں ۔ ان چیزوں سے عاری معاشرہ ہو اور دعوت عام ہو کہ ہماری طرف آؤ یہ نہایت ہی بیوقوفوں والی بات ہوگی ، دنیا سے دھوکا کرنے والی بات ہوگی ۔ کیوں وہ آپ کی طرف آئیں؟ آئیں تو آپ کا نہیں بلکہ اسلام کا منہ گندا سمجھتے ہوئے ، اسلام کا منہ کالا دیکھتے ہوئے آئیں گے۔ وہ سمجھیں گے کہ آپ پ اس اسلام کا نمائندہ ہیں۔ آپ کے معاشرہ کی بدیاں دیکھیں گے تو وہ سمجھیں گے کہ یہی اسلام ہے اور یہی ہوتا بھی ہے۔ آج یورپ میں اسلام کے ساتھ ہر جگہ یہی سلوک ہو رہا ہے۔ کوئی مسلمان ملک ہے۔ کوئی مسلمان علاقہ ہے، کوئی مسلمان قوم ہے یا لوگ ہیں جو یہاں آکر بس گئے ہیں ان کے اعمال سے وہ اسلام کا چہرہ دیکھتے ہیں اور پھر اسلام پر مذاق اڑاتے ہیں اور اسلام کو گندا سمجھتے ہیں، ہزار ہزار قسم کے طعنے دیتے ہیں۔ ان پر یہ بات بجتی نہیں ! درست ہے۔ لیکن آپ تو ان کی اصلاح کا دعویٰ لے کر اٹھے ہیں آپ پر کیسے سج جائے گی ؟ ان سے تو توقعات ہیں نہیں کیونکہ انہوں نے وقت کے امام کا انکار کر دیا ہے۔ آپ نے تو انکار نہیں کیا ، آپ تو امنا و صدقنا کہنے والوں میں ہیں اس لئے