خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 85
خطبات طاہر جلدم 85 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء کی کتب میں چھپے ہوئے موجود ہیں جن کی اصل تحریرات یہاں لندن کی لائبریریوں میں موجود ہیں اور ان میں آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ انگریزوں نے با قاعدہ معاہدہ کر کے اہل حدیث کی تحریک یعنی وھابی تحریک اور موجودہ سعودی حکومت کے بانی کا آپس میں ایک تعلق قائم کروایا اور جہاد کی ایک موومنٹ چلوائی۔انگریز کے خلاف نہیں ، وہ تو ان کا سربراہ تھا اور انہیں پانچ ہزار پاؤنڈ کی سالانہ مدد بھی دے رہا تھا۔تو وہ جہاد کی موومنٹ کس کے خلاف چلائی تھی وہ ترکی کی مسلمان حکومت کے خلاف تھی۔اس طرح یہ تحریک نجدیت انگریز کی حمایت میں وہاں بھی نافذ کی گئی اور پھر ہندوستان میں بھی اس کا پودا لگایا گیا اور یہی تحریک ہے جو آج سارے پاکستان پر قابض ہونے کے خواب دیکھ رہی ہے۔یہی تحریک ہے جو کبھی بریلویوں کو بھی انگریز کا خود کاشتہ پودا کہ دیتی ہے، کبھی احمدیوں کو کہ دیتی ہے، کبھی شیعوں کے پیچھے پڑ جاتی ہے اور اس وقت مغربی طاقتوں ہی کی ایک سازش کے تابع پاکستانی فوج کے ذریعہ اسے پاکستان میں ہمیشہ کے لئے مسلط کیا جا رہا ہے اور عام سادہ لوح مسلمان سمجھ نہیں رہے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔وہی ساری کڑیاں ہیں جو ملتی چلی جارہی ہیں جو کل انگریز کا پودا تھے وہ آج بھی انگریز کا پودا ہیں اور جن کا انگریز سے کل کوئی تعلق نہیں تھا آج بھی ان کا کوئی تعلق نہیں۔پس پاکستان کے عوام کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جماعت احمدیہ کی حیثیت کیا ہے، اس کو دیکھیں تو سہی، اگر آپ یک طرفہ جھوٹے الزامات کو تسلیم کریں گے تو پھر انہوں نے تو کسی کو بھی نہیں چھوڑا۔اگر صرف تاریخی حقائق تک محد و در ہیں تو تاریخی حقائق تو واضح طور پر کھلے الفاظ میں یہ بتارہے ہیں کہ اگر آج دنیا میں کوئی انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے تو وہ دیو بندی اور اہل حدیث ہیں یعنی اہل حدیث کا وہ فرقہ جو نجدی حکومت کے قیام میں ان کے ساتھ ملوث تھا جسے وھابی بھی کہتے ہیں۔یہ فرقہ انگریز سے مدد اور تقویت پا کر ایک حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوا اور یہ تاریخی حقائق ہیں۔میرے نزدیک اس کے باوجود مذہبی نقطہ نگاہ سے انہیں انگریز کا پودا کہنا غیر معقول اور غیر منصفانہ حرکت ہے اس لئے ان حقائق کے باوجود میں انکو انگریز کا پودا نہیں کہتا۔وجہ یہ ہے کہ یہ آزاد مذہبی تحریک تھی اس سے استفادہ کر کے ایک حکومت قائم کی گئی جو انگریز کے تابع تھی اور اس معاہدہ میں یہ بات شامل تھی کہ آئندہ سے تمہاری فارن پالیسی آزاد نہیں ہوگی بلکہ تم سو فیصد ہماری فارن پالیسی کے غلام رہو گے اور اندرونی طور پر تم ان ان باتوں میں آزاد ہو، اس کے نتیجہ میں ہم تمہیں اتنی