خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 912
خطبات طاہر جلد ۴ 912 خطبه جمعه ۱۵/ نومبر ۱۹۸۵ء کریں گے، ہر معاملہ جس کی تہ تک اتریں گے وہاں آپ کو قول سدید سے ہٹنا دکھائی دے گا۔قول سدید سے پہلا قدم ہٹ جاتا ہے تو معاملہ کا رخ بدل جاتا ہے۔مقصد گندا ہو جاتا ہے رخ ہی تبدیل ہو جاتا ہے اس لئے پھر اس کے اچھے نتائج کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لئے لین دین کے معاملات ہوں اس میں بھی قول سدید ضروری ہے اور چھان بین کرنی چاہئے۔یہ درست ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسی شکایتیں کم ہو گئی ہیں لیکن ہیں ابھی تک اور اس فضا میں یہ بہت ہی زیادہ تکلیف دیتی ہیں۔پہلے بھی دیتی تھیں لیکن اب تو بہت ہی زیادہ حیرت ہوتی ہے کہ یہ کوئی دن ہیں احمدیوں کے آپس میں لڑنے کے یا بد معاملگیاں کرنے کے۔آپس میں معاملات درست کرو اپنے خدا کے ساتھ معاملے درست کرو، تقویٰ سے کام لو، بعض نیکیاں بعض دنوں میں عام فائدہ دیتی ہیں مگر بعض دنوں میں بہت ہی زیادہ فائدہ دیتی ہیں۔اسی طرح بعض بدیاں ہیں جو عام دنوں میں ایک نقصان رکھتی ہیں لیکن بعض دنوں میں بہت ہی زیادہ نقصان رکھتی ہیں۔چنانچہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ یہودیوں کی بعض بدیاں جو سبت کے دن وہ کرتے تھے وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں غیر معمولی طور پر آئیں اور قرآن کریم نے بار بار ان کا ذکر فرمایا کہ سبت کا دن جو خاص عبادت کا دن تھا اس میں وہ لوگ ان بدیوں میں ملوث ہوتے تھے تو بعض زمانے ہوتے ہیں وہ بھی یہی تقدس اختیار کر جاتے ہیں جیسے سبت کا تقدس تھا کسی زمانہ میں یااب جمعہ کا تقدس ہے۔ان زمانوں میں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔عام حالات میں بھی معاملات کو خوش اسلوبی سے نبھانا اور صاف ستھرا رکھنا ایک مومن کا خاصہ ہونا چاہئے لیکن ان حالات میں بد معاملگیاں تو بہت ہی زیادہ تکلیف دہ صورت پیدا کر دیتی ہیں۔پھر معاشرہ کے اندر جو میاں بیوی کے تعلقات میں یا بچوں کے اور ماں باپ کے تعلقات میں دکھ ہیں وہ بھی اس لائق ہیں کہ ان کی طرف جماعت خصوصی توجہ دے۔بہت سی شکایات ایسی ماتی ہیں بعض ماؤں کی طرف سے ہیں ، بعض باپوں کی طرف سے ہیں اپنے بچوں کے متعلق یا اپنی بہو بیٹیوں کے متعلق۔اسی طرح برعکس معاملہ ہے کہ بیوی کی خاوند کے خلاف شکایت ہے خاوند کی بیوی کے خلاف شکایت ہے اور ان سب معاملوں میں کچھ نہ کچھ بھی پائی جاتی ہے۔اکثر تو میں نے دیکھا ہے کہ شادی کا معاملہ جب طے ہو رہا ہوتا ہے ساری خرابیوں کا بیج اس وقت بود یا جاتا ہے۔اکثر