خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 911 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 911

خطبات طاہر جلد ۴ 911 خطبه جمعه ۱۵/ نومبر ۱۹۸۵ء دھوکہ دے کر لالچ دیتا ہے دوسرا عمداً سمجھتے ہوئے کہ یہ طریق کار اسلام میں جائز نہیں ہے اس لالچ کو قبول کر لیتا ہے۔چنانچہ لین دین کے بہت سے ایسے معاملات ہیں جن میں دونوں طرف کی ایسی خرابیاں موجود ہیں۔ایک فریق اپنے آپ کو کلیۂ معصوم سمجھ رہا ہے حالانکہ یہ درست نہیں ہوتا۔مثلاً کئی معاملات ہیں، ایک میں مثال آپ کو کھول کر بتا تا ہوں کہ ایک شخص آیا ہے وہ کہتا ہے میرے ساتھ تجارت کرو اور میں تمہیں پچیس فیصدی یا چالیس فیصدی سالانہ منافع دوں گا۔اب ظاہر بات ہے کہ چالیس فیصدی سالانہ دینا اور اس کا نام منافع رکھنا یہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔جب Fixed Profit ہے، جب نفع معین ہو گیا تو اس کو نفع کہنے کا تو پھر حق ہی نہیں باقی رہتا۔اس کو تو اسلامی اصطلاح میں سود کہا جاتا ہے۔مدت معین ہو گئی ، نقصان کا کوئی احتمال باقی نہیں چھوڑا ، رقم معین ہوگئی اور منافع نام رکھ دیا۔اب کوئی دوسرا آدمی جو جان کر بھولا بن جائے اور منافع کہہ کر اس کو قبول کرلے اور بعد میں مقدمے لے کر جماعت کے پاس آجائے کہ یہ مجھ سے تو بڑا دھوکہ ہو گیا ہے، وہ بڑا شریف آدمی بنتا تھا اور اس طرح میرا منافع کھا گیا ہے تو تقویٰ سے کام نہیں لیتا۔اس کو سوچنا چاہئے کہ منافع کیا تم نے سود خوری کی خاطر ایک بہانہ ڈھونڈا تھا اور تمہاری اس بدی سے اس نے فائدہ اٹھایا۔اگر تم میں تقویٰ ہوتا تو اسی وقت تم سمجھ جاتے کہ یہ معاملہ غلط ہے۔تم کہتے کہ اس اصول پر میں ہرگز کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔اگر منافع ہوتا ہے تو منافع ہوگا اگر نقصان ہوتا ہے تو نقصان ہوگا اور میں ایسے ذرائع اختیار کروں گا کہ میرا روپیہ تمہارے پاس محفوظ رہے۔یہ چیز ذرائع کو محفوظ کرنا اور عقل سے کام لینا اور ایسی ضمانتیں طلب کرنا کہ جس سے روپیہ نقصان میں نہ جائے تب ہی پیدا ہوسکتی ہے اگر نفس انسان کو دھوکا نہ دے۔پچیس فیصدی یا چالیس فیصدی کی لالچ ایسا مغلوب کر دیتی ہے آدمی کو کہ آدمی سمجھتا ہے کہ اگر یہاں میں نے سودا بازی کی تو یہ پھر مجھے چھوڑ دے گا،کسی اور کے پاس چلا جائے گا اس لئے عملاً شروع میں ہی اپنے نقصان کے اقدامات وہ خود کر لیتا ہے اور اس بات کی ہمت نہیں پاتا کہ اس سے کھل کر ضمانتیں طلب کرے۔چنانچہ جب یہ معاملہ آگے بڑھتا ہے تو لازماً اس معاملہ نے بدی پر منتج ہونا ہے کیونکہ اس کا آغاز ہی بدی ہے اور جب ہو جاتا ہے تو پھر دونوں فریق جماعت سے اپنے حق میں فیصلے چاہتے ہیں اور اگر کسی کے حق میں فیصلہ نہ ہو تو کہتا ہے دیکھ لو یہ انصاف ہے۔ہر معاملہ جس کی آپ چھان بین