خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 910 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 910

خطبات طاہر جلد ۴ 910 خطبه جمعه ۱۵/ نومبر ۱۹۸۵ء ہو جاتا ہے (صحیح مسلم کتاب البر والصله باب تراحم المؤمن و تعاطفهم) یہ بے چینی اگر محسوس ہو تو کبھی ہو نہیں سکتا کہ انگلی کو کوئی تکلیف ہو تو انسان کہے کہ کوئی بات نہیں ہوتی ہے بلکہ Enjoy کرنا شروع کرے اس پر لطف اٹھانا شروع کر دے کہ بڑا مزہ آ رہا ہے اس کو تکلیف ہے اب اس کو اور بھی اگر انگلی سمجھ سکتی ہے تو اس کو طعنے بھی دوں گا کہ دیکھ لیا تم یہ کس مزے میں تم زندگی بسر کر رہی ہو۔تم نے یہ حرکت کی تھی اب یہ اس کا دکھ اٹھا رہی ہو۔یہاں تک کہ تکلیف بڑھنی شروع ہو جائے بڑھتی چلی جائے۔پھر وہ خوشی خوشی ڈاکٹر کے پاس جائے کہ اب اس کو کاٹو اور پھینکو۔پاگل پن کے سوا اس رویے کو اور کوئی کیا کہہ سکتا ہے۔پس بدن کی مثال دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معارف کا ایک اور مضمون بھی ہم پر کھول دیا۔اصلاح معاشرہ کے اندر جو مخفی امور کار فرما ہیں ان پر ایک اور جہت سے بھی روشنی ڈال دی۔آپ نے فرمایا کہ تم دوسروں سے بھی معاشرہ کی اصلاح کے وقت ویسا ہی سلوک کرو جیسا اپنے بدن کے کسی چھوٹے سے چھوٹے عضو سے کرتے ہو۔مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جب قول سدید سے بات بنتی ہے تو پھر خرابیوں پر خرابیاں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں اصل نشانے پر نہیں لگتی اور غلط نشانوں پرلگتی ہے، جس کو بچانا ہے اس کو بچانے کی بجائے دوسروں کو مارنا شروع کر دیتی ہے۔تو بیمار انگلی ہو اور آپ ہاتھ یا بازو کاٹ دیں ویسی ہی بات ہوگئی۔اردو میں محاورہ ہے ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ کہ ماروں گھٹنا تو آنکھ پھوٹ جائے۔مطلب یہ ہے کہ نیت کسی اور چیز کی کروں اور نقصان کسی اور جگہ ظاہر ہو جائے۔تو ایسی نصیحتیں تو اسی قسم کا اثر دکھاتی ہیں کہ جس جگہ جس بیمار حصے کی اصلاح مقصود ہو اس کی تو نہیں کر سکتیں اور جو صحت مند حصہ بیچارا بچا ہوا تھا اس کو بیمار کر دیتی ہیں۔لین دین کے معاملات ہیں ان میں بھی یہی کیفیت ہے۔اکثر لین دین کے معاملات میں خرابیوں کی جڑ ٹیڑھی بات ہے۔جب دو آدمی مل کر ایک کام کرتے ہیں یا کوئی لین دین کا معاملہ کرتے ہیں تو شروع میں ہی ٹیڑھی باتیں ہیں، ملمع کاری کی باتیں ہیں جو آئندہ خرابیوں کی بنیاد ڈال دیتی ہیں اور جب معاملہ حد سے گزر جاتا ہے پھر وہی مطالبے دونوں طرف سے شروع ہو جاتے ہیں کہ اب اس کو کاٹو اور پھینکو۔یہ اچھا احمدی معاشرہ ہے جس میں اس قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ بسا اوقات خرابی دونوں طرف سے ہوتی ہے۔صرف ایک طرف سے نہیں ہوتی۔ایک شخص