خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 905 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 905

خطبات طاہر جلد ۴ 905 خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۸۵ء ایک آدمی نصیحت کرنے گیا ہے کہ آپ کی بیٹی پردہ نہیں کر رہی اور بڑا برا اثر پڑتا ہے۔آج کل احمدیت کس دور میں سے گزر رہی ہے یہ آپ دیکھیں تو سہی اور اسی معاشرہ میں اسی فوج میں جس میں آپ بس رہے ہیں آپ کی بیٹیاں غیر مردوں کے ساتھ خلاملا کر رہی ہیں، پارٹیوں پر جاتی ہیں اور بجائے قوم کو یہ جواب دینے کے کہ تم سے بہتر ہم مسلمان ہیں جو اسلام کی حفاظت کرنے والے ہیں انہوں نے تو ساری اقدار ہاتھ سے کھو دی ہیں اور ہم ہیں جو اس نہایت ہی بدتر حالت میں بھی نہایت دکھوں کی حالت میں زندگی گزارتے ہوئے بھی اسلام کی اقدار کی حفاظت کر رہے ہیں۔اس کی بجائے وہ جب ان جیسا بنے کی کوشش کرتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ عزتیں اس میں ہیں کہ ہمیں قدیم نہ سمجھا جائے ہم ان جیسی ہی بن جائیں۔شاید اس سے معاشرہ کی تلخی کم ہو جائے تو کتنا برا اثر پڑتا ہے ایک جیتا ہوا میدان آپ گویا عملاً اپنے ہاتھ سے کھو دیتے ہیں۔جب یہ بات کوئی کہتا ہے تو کئی ڈھب سے یہ بات کی جاسکتی ہے۔بعض نہایت ہی لجاجت سے شرم و حیا کے ساتھ معذرت کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ہماری بھی بہو بیٹیاں ہیں ہم آپ پر کوئی اعتراض نہیں کرنے آئے لیکن ایک چیز ہے جو مجھے تکلیف دے رہی ہے۔بعض لوگ کھل کر بات کرتے ہیں لیکن تلخی بیچ میں شامل کر لیتے ہیں۔لیکن جواب دینے والوں کا حال بھی ان سے کم نہیں ہوتا۔بعض دفعہ تو جب آپ اس قسم کی نصیحت کرتے ہیں تو جوابا یوں معلوم ہوتا ہے کہ ڈنڈا مارا گیا ہے۔کہتے ہیں تمہاری بیٹی جو فلاں وقت فلاں جگہ دیکھی گئی تھی اس کی ہوش نہیں کرتے۔تمہاری پھوپھی نے یہ کیا، تمہاری ماں نے یہ کیا تمہاری بہن نے یہ کیا اور آئے ہو مجھے نصیحت کرنے کے لئے۔تو دونوں طرف سے ایک دنیاوی مقابلہ تو شروع ہو جاتا ہے، نیکی کے ساتھ نہ نصیحت کرنے والا کا تعلق رہتا ہے نہ نصیحت سنے والے کا تعلق رہتا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ اگر بات حق ہے تو اس پر کیا ردعمل ہونا چاہئے ؟ قول سدید کرنے والے کا رد عمل یہ ہو گا کہ وہ کہے گا کہ میں نے سن لیا ہے مجھے علم ہے یا مجھے علم نہیں تھا تو آپ نے بتا دیا اور آپ بھی دعا کریں میں بھی دعا کرتا ہوں اور کوشش کرتے ہیں اور مشورہ کرتے ہیں کس طرح اس بچی کی اصلاح کی جائے۔یہ قول سدید ہے۔لیکن جو اطلاعیں مجھے ملتی ہیں بدقسمتی سے اکثر صورتوں میں نصیحت کرنے والے نے کم عقلی سے کام لیا ہوتا ہے اور بات کو ٹیڑھا کر کے پیش کیا ہوتا ہے اور نصیحت سنے والا ایسا خوفناک ردعمل دکھاتا ہے گویا اس کی ذات پر حملہ کیا گیا ہے اسے نصیحت نہیں کی گئی۔نتیجے