خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 904 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 904

خطبات طاہر جلد ۴ میں لپیٹ کر پیش کریں۔904 خطبه جمعه ۱۵/ نومبر ۱۹۸۵ء چنانچہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ حسنہ بات حسن طریق پر پیش ہونی چاہئے۔خوبصورت بات خوبصورت رنگ میں پیش ہونی چاہئے۔آنحضرت نے بھی نمازوں کی تلقین فرمائی ہے لیکن ایسا درد پایا جاتا ہے اس تلقین میں ایسا، پیار ہے ، ایسا تسلسل ہے، ایسا صبر ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔کامل حسن کسی نے دیکھنا ہو تو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت میں دیکھے اور حیرت انگیز طور پر ان لوگوں کو جو دنیا میں ڈوبے پڑے تھے ان کوخدا والا بنادیا اور دیکھتے دیکھتے ان کی کایا پلٹ دی۔پس نماز کی نصیحت کرنی ہو یا چندوں کی طرف بلانا ہو، خدا کے لئے قربانی کے لئے تحریص پیدا کرنی ہو جو بھی شکل ہو آپ قول سدید کے بغیر اس میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔سدید کا معنی عملاً سیدھا ہے لیکن اس میں صرف سیدھا پن نہیں پایا جاتا۔ایسی بات جو دوسری الائشوں سے پاک ہو دوسری کسی چیز کی آمیزش نہ پائی جاتی ہو ، سیدھی سادی کھری بات کوئی ٹیڑھا پن نہ ہو، اس میں ایک بہت بڑی قوت پیدا ہو جاتی ہے، اس میں ایک عظمت پیدا ہو جاتی ہے اور غیر معمولی طور پر کامیابیاں نصیب ہوتی ہیں۔دوسری بات اس کے برعکس یہ بنتی ہے کہ جن لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے ان کو بھی اگر قول سدید کی عادت نہ ہو تو وہ نصیحتیں دائیں بائیں اس طرح بکھیر دیتے ہیں جس طرح گٹکے کے دو کھلاڑی مقابلہ کر رہے ہوں۔ایک وار کرنے کی کوشش کرتا ہے دوسرا اس وار کو ٹال دیتا ہے کبھی پینترا بدل کر کبھی اپنے ڈنڈے سے روک کر اور پوری کوشش ہوتی ہے کہ مجھ پر وار پڑے نہیں۔چنانچہ نصیحت کے مقابلے میں بھی صرف یک طرفہ کھیل نہیں ہے بلکہ وہ لوگ جن کو نصیحت کی جاتی ہے وہ بھی بڑے بڑے گنتکے کے کھلاڑی ہوتے ہیں۔ان میں بھی ٹیڑھی بات کرنے کی ایسی عادت ہوتی ہے کہ فوری طور پر نفس کوئی بہانہ ڈھونڈتا ہے اور کوئی نہ کوئی عذر تلاش کر لیتے ہیں۔وہ عذر جو ہیں وہ بعض دفع تلخی کا رنگ اختیار کر جاتے ہیں۔بعض دفعہ ملائمت سے پیش کئے جاتے ہیں مگر دونوں صورتوں میں وہ ٹیڑھا پن ہے ان میں کوئی سچائی نہیں۔جب یہ بات معاشرے میں پیدا ہو جائے کہ نصیحت سننے والا فوراً بہانہ تلاش کرے اور کوئی عذر تلاش کرے کہ یہ نصیحت میرے دل پر اثر نہ پیدا کرے۔یہ بات پھر وہیں تک نہیں رہتی اس کا اگلا قدم پھر وہ یہ اٹھاتے ہیں کہ جوابی حملہ کرتے ہیں۔