خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 903
خطبات طاہر جلد ۴ 903 خطبه جمعه ۱۵/ نومبر ۱۹۸۵ء احسان جتائے یا کوئی کڑوی بات اس سے کرے۔ایک چیز دوسمتوں میں نہیں بیچی جاتی۔یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ ایک چیز کسی ایک شخص کو فروخت کر کے پھر کسی دوسرے سے بھی اس کے پیسے وصول کرنے کی کوشش کریں۔قول سدید کا تقاضا ہے کہ پہلے یہ فیصلہ کریں کہ آپ نے اپنی قیمت کس سے وصول کرنی ہے اپنے رب سے یا اس شخص سے جس کو محض خدا کی خاطر آپ سمجھتے ہیں یا ادعا کرتے ہیں کہ کوئی نیک بات کہنے کے لئے نکلے ہیں۔یہ صرف مالی امور سے تعلق رکھنے والی بات نہیں۔نمازوں کی نصیحت کرنے کے لئے میں نے گزشتہ خطبہ تلقین کی تھی وہاں بھی یہی مسئلہ آپ کو در پیش آئے گا۔عبادت کے لئے آپ کہیں گے کسی کی خاطر اس سے کچھ مانگ بھی نہیں رہے لیکن بسا اوقات بہت سی کڑوی باتیں سننے میں آئیں گی۔اس وقت اپنا دل گردہ مضبوط کریں اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے صبر کا عبادت کے ساتھ بڑا تعلق ہے۔نہ صرف یہ کہ ہمت نہیں ہارنی اور صبر کے ساتھ اس پر قائم رہنا ہے بلکہ اپنے ذہن میں یہ بات کھلی کھلی صاف کر لیں کہ جس ذات کی خاطر آپ یہ کام کر رہے ہیں آپ کی ساری نیکی اور سارا اجر اس سے ملنا ہے۔نہ جماعت پر کوئی احسان ہے نہ اس شخص پر کوئی احسان ہے جسے آپ نصیحت کرتے ہیں اس لئے اس پر اپنی نیکی کی برتری جتانا بھی ایک گناہ بن جاتا ہے۔اگر اس رنگ میں آپ اس سے بات کریں کہ بے نمازی ! خدا کا خوف نہیں کرتے اور کیا مرداروں والی زندگی بسر کر رہے ہو ایسا بھی لوگ کہہ دیتے ہیں۔لاہور کے ایک مرہم عیسی صاحب بزرگ ہوا کرتے تھے بہت دلچسپ باتیں کیا کرتے تھے۔ان کی نماز کے مسئلہ پر کسی سے گفتگو ہوگئی تو گفتگو کے دوران جب بحث تیز ہوگئی تو ایک نے دوسرے کو یہ کہا کہ تو تو ایسا بے نمازی ہے کہ جب تک خدا تجھے یہ نہ کہے کہ اٹھ اوئے سورا نماز پڑھ اس وقت تک تم نماز نہیں پڑھو گے۔اب ان صاحب کی چونکہ سخت کلامی کی عادت تھی اس لئے انہوں نے اٹھ اوئے سورا نماز پڑھ خدا کی طرف بھی منسوب کر دیا۔ایسی نصیحتیں تو رد عمل پیدا کرتی ہیں۔غصہ غصے کے بچے پیدا کرتا ہے تلخ بات دل میں تلخی پیدا کرتی ہے اور اس نیکی سے بھی محروم کر دیتی ہے جو اس تلخ بات کے اندر لیٹی ہوئی ہے۔ایک بری چیز بھی اگر آپ خوبصورت کاغذ میں لپیٹ کر پیش کریں تو اس کے قبول ہونے کا زیادہ امکان ہے یہ نسبت اچھی بات کے جسے برے کاغذ