خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 84 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 84

خطبات طاہر جلدم 84 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء و نحن على يقين من ان المسلمين كما يسلم اذعانهم لحكومتهم يزيد ون من هولاء العلماء الناشئين طاعة و انقيادا للحكومة ـ و الان نقدم الى جنابکم از کی التشكرات حيث - تفضلتم علينا بقطيعة من الارض لنرفع عليها قواعد مدرستنا بہر حال یہ مشہور مذہبی درسگاہ ایک انگریز کی مرہون منت ہے ( الندوة ، دسمبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۷ جلد ۵ نمبر ۱۱) دیکھ لیجئے خود کاشتہ پودا کس طرح بولتا ہے کہ میں ہوں خود کاشتہ پودا۔ندوۃ العلماء مسلمانوں کی چوٹی کی مذہبی درسگاہ ہے اور وہیں سے وہ سارے مولوی آرہے ہیں جو احمدیوں کی مخالفت کے لئے دساور بھیجے جاتے ہیں اس کا اصل مرکز وہی ہے۔اس وقت پاکستان میں جس اسلام کی چھاپ لگائی جارہی ہے اس میں دراصل اسی نجدی فرقہ کو اوپر لایا جارہا ہے اور یہی وہ گروہ ہے جو ندوہ سے بھی تعلق رکھتا ہے اور اہل حدیث بھی کہلاتا ہے یعنی دوا لگ الگ فرقے ہیں لیکن بنیادی طور پر عملاً ایک ہیں۔الندوۃ جولائی ۱۹۰۸ء جلد ۵ صفحہ میں یہ بات کھل کر کہی گئی ہے کہ اس کے مقاصد کیا ہیں۔فرماتے ہیں: ندوۃ اگر چہ پالیٹکس سے بالکل الگ ہے لیکن چونکہ اس کا اصلی مقصد روشن خیال علماء کا پیدا کرنا ہے اور اس قسم کے علماء کا ایک ضروری فرض یہ بھی ہے کہ گورنمنٹ کی برکات حکومت سے واقف ہوں اور ملک میں گورنمنٹ کی وفاداری کے خیالات پھیلائیں یہ ہے جسے انگریزی میں کہتے ہیں ” Cat is out of the bag‘ کہ بلی تھیلے سے باہر آ گئی۔تو یہ ان کی حالت ہے۔کیسے جھوٹ اور مکر کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت احمدیہ پر حملے کرتے ہیں مگر اپنا اندرونہ چھپاتے ہیں جسے انہوں نے خود تسلیم کیا ہے اور بتایا ہے کہ مقاصد کیا ہیں؟ کس نے بنیا درکھی؟ یہ سارے ثبوت تاریخی طور پر موجود ہیں کسی احمدی کا اس میں کوئی دخل نہیں اور نہ ہی کوئی رائے قائم کرنے کی ضرورت ہے۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جسے تحریک نجدیت کہا جاتا ہے اسے مسلسل انگریز کی حمایت حاصل رہی ہے اور ان کے وہ معاہدے تاریخ