خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 83 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 83

خطبات طاہر جلد۴ 83 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء ان کا ایک دوسرے کو خود کاشتہ کہنا یہ بھی ہمارے نزدیک بے معنی ہے اور ہم اسے کچھ بھی ثابت شدہ نہیں سمجھتے لیکن تاریخی واقعات کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے اگر وہ کچھ بولے تو وہ یقینا سننا پڑے گا دیو بندی فرقہ کے ندوۃ العلماء کے متعلق تاریخی حقائق سے ثابت ہے کہ انگریزوں نے اسے قائم کیا تھا وہی ان کو مشاہرے دیتے رہے جن پر یہ مولوی پہلے ہیں جو آج انگریز کے دشمن بلکہ مجاہد اول کہلا رہے ہیں۔ندوۃ العلماء کی بنیاد بھی ایک انگریز ہی نے رکھی۔چنانچہ الندوہ ان کا اپنا رسالہ ہے کسی غیر ندوی کا نہیں۔اس میں درج ہے: ہر آنر لیفٹیننٹ گورنر بہادر ممالک متحدہ نے منظور فرمایا تھا کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کا سنگ بنیاد اپنے ہاتھ سے رکھیں گے۔یہ تقریب ۲۸ نومبر ۱۹۰۸ء کو عمل میں آئی۔" ( الندوة ، دسمبر ۱۹۰۸، نمبر جلد ۵ صفحه ۲) (صفحہ ۴ پر عربی ایڈریس ہے جس میں سرجان برسکاٹ کے سی ایس آئی ای کا ندوہ کا سنگ بنیاد رکھنے کی درخواست کو قبول کرنے پر شکریہ ادا کیا گیا ہے۔(ایضاً) یہ ذکر کرنے کے بعد اب اگلا حصہ قابل غور ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں یہ چھن پیدا ہوئی کہ مسلمان لوگ پڑھیں گے تو کیا کہیں گے کہ جس ندوہ کی بنیاد انگریز گورنر نے رکھی ہے وہ آگے جا کر کیا بنے گا اور اس کے کیا مقاصد ہیں؟ چنانچہ وہ ایک نہایت ہی خطرناک بات کہہ گئے اور وہ اس سے بالکل نہیں شرمائے وہ بات تو تمام مسلمانوں کے دل پر خطر ناک چرکہ ہے۔ایک انگریز سے سنگ بنیا در کھوانے کی تائید میں اور اس کی توجیہ پیش کرتے ہوئے کہ کیوں ایسا ہوا فر ماتے ہیں: یہ پہلا ہی موقع تھا کہ ایک مذہبی درسگاہ کا سنگ بنیاد ایک غیر مذہب کے ہاتھ سے رکھا جا رہا تھا ( مسجد نبوی کا منبر بھی ایک نصرانی نے بنایا تھا)‘ (الندوۃ لکھنو دسمبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۲۱) چونکہ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ ان کے نزدیک مسجد نبوی کے منبر بھی نصرانی بناتے رہے اس لئے اگر ندوۃ کی بھی تعمیر نصرانی نے کر دی تو کیا فرق پڑتا ہے مگر ساتھ ہی پھر یہ بھی ماننا پڑا کہ: اصل عربی عبارت یوں ہے: