خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 887
خطبات طاہر جلدم 887 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۸۵ء قدریں ثابت ہوں گی اور وہ ہے عبادت کی محبت ، نماز سے گہراتعلق ، اس پر خود کھڑے ہو جانا اور اس پر دوسروں کو کھڑے کر دینا۔اور جو دوسروں کو کھڑا کرنے والا مضمون ہے وہ بھی صبر کو چاہتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں دوسری جگہ فرماتا ہے وَأمُرُ اَهْلَكَ بِالصَّلوةِ وَاصْطَبِرُ عَلَيْهَا ه ۱۳۳۰) کہ اپنے اہل کو نمازوں کی تلقین کیا کر ولیکن اس پر پھر صبر کے ساتھ قائم ہو جاؤ۔صبر کا مضمون صرف دکھ سے تعلق نہیں رکھتا کہ کوئی دکھ دے تو اس کو برداشت کر لیا جائے۔عربی میں صبر کئی مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔مثلاً اگر عرب کسی گھوڑی کو یا کسی جانور کو بھو کا کہیں بند کر دیتے تھے تو اس کے لئے بھی صبر کا لفظ استعمال ہوتا تھا ،صبر کا فعل استعمال کرتے تھے کہ ہم نے اس جانور کو صبر کر دیا ہے یعنی ایسی حالت میں رکھ دیا ہے کہ جہاں اسے صبر کرنا ہی پڑے گا۔پھر صبر کا مضمون آقا کی نسبت سے غلام کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آقا نے جو جو پابندیاں لگائی ہیں غلام ان پابندیوں میں پابند ہو جائے اور ان پابندیوں سے باہر نکلنے کا کوئی تصور اس کے لئے نہ رہے۔پھر صبر کا مضمون اس بات سے بھی تعلق رکھتا ہے کہ جبر کیا جائے اور انسان نہ بولے۔صبر کا ایک معنی خاموشی ہے مگر ایسی خاموشی جب کہ Torture کر کے تکلیفیں دے کر کوئی بات نکلوانے کی کوشش کی جارہی ہو اور کوئی آدمی خاموش رہے اور صبر کا ایک مضمون بولنے سے بھی تعلق رکھتا ہے کہ جب بات کرنا گناہ بنا دیا جائے ، جب بات پر پہرے بٹھائے جار ہے ہوں اس وقت ضرور بولے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا : وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر :م) وہاں خاموشی سے تعلق نہیں ہے اس مضمون کا بلکہ قوت نطق سے تعلق ہے ، قوت گویائی سے تعلق ہے۔فرمایا کہ وہ لوگ حق کے ساتھ حق کی بات کرتے ہیں غلط بات نہیں کہتے مگر حق کی بات کہنا ان کا حق بن جاتا ہے اور وہ اس حق کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑتے وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ چمٹ جاتے ہیں اس بات کو اور کہتے ہی چلے جاتے ہیں۔تو بہت وسیع معانی ہیں اس لفظ صبر میں۔چنانچہ نماز سے پہلے خود نماز سیکھنے کے لئے صبر کا مضمون بیان کر دیا وَ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ والصلوۃ اور دوسروں کو نماز سکھانے کے لئے بھی صبر کا مضمون بیان فرما دیا کہ تم مستقل مزاجی کے ساتھ چمٹ جاؤ اور اس عادت کو پھر چھوڑو نہیں۔کہتے چلے جاؤ، کہتے چلے جاؤ پھر جا کے تمہیں مقصد