خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 886
خطبات طاہر جلدم 886 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۸۵ء ہو جاتی ہے۔آج کل یہ کیفیت ہے اس لئے اس سے پورا پورا فائدہ اٹھالیں۔ایک اور مضمون بھی قرآن کریم نے اسی نماز کے سلسلہ میں نماز کی تحریص کے طور پر باندھا ہے اور وہ بھی آج کے حالات کے اوپر پوری طرح اطلاق پاتا ہے۔شیطان کا ذکر کر کے فرماتا ہے۔وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلوةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ (المائده :۹۲) که بعض ایسے دور آتے ہیں کہ شیطان پوری کوشش کرتا ہے کہ تمہیں خدا کے ذکر سے اور نمازوں سے غافل کر دے یا ان کے رستے میں روک بن جائے نماز پڑھنے سے روک دے تمہیں فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ اے میرے بندو! کیا رک جانے والے لوگ ہو تم ؟ کیا جب پڑھنے سے تمہیں زبر دستی روکا جائے گا، میری عبادت سے روکا جائے گا تو تم رک جاؤ گے؟ کتنا عظیم الشان چیلنج ہے اور کتنا خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں پر زعم کیا ہے، ناز فرمایا ہے۔یہ مضمون ناز کا مضمون ہے شیطان کے لئے چیلنج ہے دراصل۔فرمایا کہ تم زور لگا لو میرے بندوں کو نماز سے روکنے کے لئے یہ رکنے والے لوگ نہیں ہیں، جو میرے بندے ہیں وہ نماز سے نہیں رک سکتے۔پس آج کل پاکستان میں خصوصیت کے ساتھ آیت کا یہ پہلو بھی رائج ہے اور دوسرے ذرائع سے شیطان جو روکتا ہے اس کے علاوہ کھلم کھلا روکا جارہا ہے۔اب شیطان کے لئے ایک چیلنج ہے کہ تم زور لگا لو اور احمدیوں کو خدا کا ناز ابھار رہا ہے، خدا کی تو قعات جو احمدیوں پر ہیں وہ ان کو انگیخت کر رہی ہیں، ابھار رہی ہیں اس کام کے لئے اور وہ توقع رکھتی ہیں کہ جو پہلے نہیں بھی پڑھتے تھے تو اب اس ضد میں ضرور پڑھیں گے کہ چونکہ شیطان روک رہا ہے نماز سے اس لئے ہم نے ضرور پڑھنی ہے ، وہ ہوتا کون ہے خدا اور ہمارے درمیان حائل ہونے والا۔پس یہ دونوں پہلو آج جب پوری قوت کے ساتھ عمل پیرا ہیں اس وقت اگر کچھ لوگ نمازوں سے محروم اور خالی ہاتھ نکل گئے تو اس سے زیادہ بڑی محرومی تصور نہیں ہو سکتی۔پس وہ فتح جس کی تیاری کی تمنا آپ رکھتے ہیں اس کا علاج بھی نماز ہی بتایا ہے کیونکہ یہ دعائیں قبول نہیں ہوں گی جب تک نماز کے اوپر صبر کے ساتھ آپ قائم نہیں ہوں گے اور نماز کا علاج یہ حالات ہیں جن حالات میں آپ کے دل میں تمنا پیدا ہورہی ہے۔کیسا عظیم الشان مربوط مضمون ہے۔فرمایا یہی موقع ہے تمہارے لئے آج جب ترس رہے ہو فتح کوتو اب ایسی قدروں میں تبدیل کر دو جو ہمیشہ کے لئے زندہ رہنے والی قدریں ہیں ، جو ہمیشہ کے لئے تمہیں زندہ کر دینے والی