خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 884 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 884

خطبات طاہر جلدم 884 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۸۵ء پختگی کی بھی ضرورت ہے کہ جو عادت ایک دفعہ پڑ جائے پھر وہ جائے نہ۔اس مضمون سے جب ہم نماز کی حالت پر نظر ڈالتے ہیں تو دنیا کی اکثر جماعتوں میں انصاف کی نظر سے دیکھتے ہوئے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ابھی بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے ، بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔جب موجودہ حکومت پاکستان یعنی آمرانہ حکومت پاکستان نے اپنے پر پرزے نکالنے شروع کئے جماعت کے معاملات میں اور رفتہ رفتہ کھلنے لگی کہ ہم کیا بد ارادے رکھتے ہیں تو اسی وقت سے میں نے جماعت کو اس چیز کے لئے تیار کرنا شروع کیا اور سلسلہ خطبات کا اس موضوع پر دیا کہ آنے والی فتوحات کی تیاری کرو۔اس وقت مجھے یقین تھا کہ ابتلاء ہے تو فتوحات لازماً آئیں گی اس لئے پہلے میں نے خطبات کا وہ سلسلہ شروع کیا جس کا تربیت سے تعلق ہے بعد میں جماعت کو متنبہ کرنا شروع کیا کہ کس قسم کے سنگین حالات آپ کو در پیش ہو سکتے ہیں کیونکہ فتح بہر حال یقینی ہے نصرت نے نہ کبھی ساتھ چھوڑا ہے نہ آئندہ کبھی چھوڑے گی اور ظفر بن کے بھی آئے گی اس میں کوئی شک نہیں لیکن تیاری کی مجھے فکر ہے اور جتنا میں سمجھتا ہوں کہ وقت قریب آتا جاتا ہے احمدیت اور اسلام کی فتوحات کا اتنامیری یہ فکر بڑھتی جاتی ہے اور باوجود اس کے کہ حالات توجہ کو مختلف دوسری سمتوں میں پھیرتے رہے ہیں۔اب میں سمجھتا ہوں کہ دوبارہ تربیتی امور پر خطبات دینے کی ضرورت ہے۔تو نماز اس میں سب سے بڑی اہمیت رکھتی ہے اور فتح ونصرت کے حصول کی تمنا رکھنے والوں کو تو براہ راست یہی جواب دیا ہے قرآن کریم نے وَاسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلوةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ (البقرہ: ۴۶) کہ تم جو امیدیں لگائے بیٹھے ہو کہ بہت عظیم الشان فتوحات نصیب ہوں گی اور ظاہری عددی غلبہ بھی عطا ہوگا تو پھر اس غلبہ کو حاصل کرنے کا طریق یہ ہے کہ واسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة کہ خالی دعائیں نہ کیا کر محض ہاتھ اٹھا کے مانگا نہ کرو کیونکہ صبر اور صلوۃ کے بغیر دعائیں قبول نہیں ہونگیں خدا کی طرف سے اعانت نصیب نہیں ہو سکتی۔صبر اور صلوٰۃ کو آپس میں باندھ دیا ہے۔جس میں بہت سی وسعتیں ہیں اس مضمون میں اور بڑا گہرا تعلق ہے صبر کو صلوٰۃ سے کئی رابطے ہیں جن کا قرآن کریم مختلف آیتوں میں ذکر فرماتا ہے لیکن ایک مضمون اس میں یہ بھی ہے جس کا اس وقت اس خطبہ سے تعلق ہے کہ صبر غموں کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے اور جب غم ہوں تو صلوٰۃ کی طرف طبعاً توجہ پیدا ہو جاتی ہے۔اس لئے بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ