خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 877 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 877

خطبات طاہر جلد۴ 877 خطبه جمعه یکم نومبر ۱۹۸۵ء گزرے اور مسلسل ایذا رسانی کے ساتھ کوئی امید کی کرن کی ظاہری شکل نظر نہیں آتی تھی۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ رات کے بعد رات آتی چلی جاتی ہے۔پھر رات کے بعد رات آتی چلی جاتی ہے اور وہ سورج کے طلوع کا وقفہ جو بیچ میں آجایا کرتا ہے جس سے رات کی تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے بیماروں کے لئے وہ بیچ میں آتا ہی نہیں تھا۔ایک دکھ کا سال دوسرے دکھ کے سال میں تبدیل ہو جایا کرتا تھا، شروع کے تین سال جس انتہائی تکلیف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گزارے اس کے بعد چوتھے سال میں داخل ہوئے تو شعب ابی طالب میں آپ کو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں کو قید کر دیا گیا، وہاں سے نکلے تو پھر سارے قبائل کی طرف سے تمام مسلمانوں کو شدید اذیتیں دی گئیں ، بہت ہی خطرناک چالیں تھیں جو آپ کے اور آپ کے ماننے والوں کے خلاف چلی گئیں مگر سب سے زیادہ تکلیف کی حالت میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزرے ہیں کیونکہ آپ کو جود کھ دیا جا تا تھا اس سے بہت بڑھ کر آپ کو ان کی تکلیف ہوتی تھی جن کو آپ کی وجہ سے دکھ دیا جا رہا تھا اور ان کو بچا نہیں سکتے تھے، کچھ کر نہیں سکتے تھے۔انتہائی درد ناک دور تھا اور عجیب بات ہے کہ اس دور میں مَتى نَصْرُ الله کی آواز بھی اس وقت نہیں اٹھی ہے۔متی نصر اللہ کی آواز بھی مدنی دور میں اٹھی ہے وہ دور کامل صبر اور تو کل کا دور تھا۔آپ قرآن کریم پر نظر ڈالیں اور قرآن کریم کی آیات کا تاریخ اسلام سے جہاں تک تعلق ہے اُس پر نگاہ دوڑائیں تو آپ حیران ہوں گے یہ دیکھ کر کہ مکی دور میں متى نَصْرُ اللهِ کی آواز بھی بلند نہیں کی جاتی تھی۔انتہائی صبر کا دور تھا، انتہائی خاموشی کا دور تھا لیکن تو کل تھا کہ چٹان کی طرح تھا غیر متزلزل ، کوئی اس میں رخنہ نہیں پڑا۔مسلسل آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ساتھی ان تکلیفوں کے زمانہ سے گزرے ہیں اور کسی نے اپنے خدا پر بدظنی نہیں کی کہ کیا ہوگیا ، اتنی دیر ہو گئی تکلیفوں کو ابھی تک یہ بد بخت کیوں مارے نہیں جاتے۔بعض کمزور آدمی ، بعض کمزور کہنا بھی ضروری نہیں بعض لوگ بے چارے اعصاب کے لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں ان معنوں میں کمزور کہہ رہا ہوں جلدی تھک جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ایسے ظالم کو خدا نے کیوں نہیں پکڑا، ویسے ظالم کو خدا نے کیوں نہیں پکڑا، کیوں خدا کی غیرت جوش میں نہیں آتی ، کیوں اتنی دیر ہوگئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں پڑ رہی ہیں۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آقا