خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 876 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 876

خطبات طاہر جلد۴ 876 خطبه جمعه یکم نومبر ۱۹۸۵ء دیتا یہ بتا رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک بہت عظیم الشان مقام عدل ہے اور یہ مقام عدل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آقا اپنے کائنات کے مالک اور خالق خدا سے سیکھا تھا۔خدا کا بھی ایک مقام عدل ہے اور یہ وہ مقام ہے جس سے سب سے زیادہ خوف کھانا چاہئے۔اسی لئے انبیاء بھی جب اس مقام پر نظر کرتے ہیں تو بے حد گریہ وزاری کے ساتھ بخشش کے طالب ہوتے ہیں صرف نظر کے طالب ہوتے ہیں یہ عرض کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی نیکیوں پر کوئی گھمنڈ نہیں ، تو جب مقام عدل پر فائز ہوگا تو ہم اس سے تیرا خوف کھاتے ہیں اور ہم ڈرتے ہیں اس لئے ہمیں معاف فرما ،صرف نظر ہمارے سے فرما، ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہم سے رحم کا سلوک فرما۔تو یہ وہ مقام عدل کا بیان ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اس خطرناک دور میں ہرگز کسی کمزور کے لئے کوئی سوال پیدا نہیں ہونا چاہئے کہ وہ منافقوں یا کافروں کی باتوں سے ڈر کر اپنے موقف میں کوئی کسی قسم کی تبدیلی پیدا کر لے کیونکہ یہ اگر ایسا کریں گے تو پھر ان کی ایذاء سے بچ کر خدا کی ایذاء میں مبتلا ہو جائیں گے۔ان کے عذاب سے بچ کر خدا کے عذاب کو اپنے اوپر لے لیں گے اور اس مضمون کو قرآن کریم نے دوسری جگہ خوب کھول کر بیان فرما دیا کہ خدا کی پکڑ ، خدا کی ناراضگی ، خدا کا عذاب ، لوگوں کی پکڑ اور ان کی ناراضگی اور ان کے عذاب سے بہت زیادہ سخت ہے۔تو فر ما یادَعْ اَذْهُم وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ اللہ پر توکل رکھ۔وَكَفَى بِاللهِ وَكِيلًا اور جو بھی وکیل دنیا میں بنائے جاسکتے ہیں۔یہاں وکیل وسیع معنوں میں استعمال ہونے والا لفظ ہے اس کا ایک معنی وہ ہے جس پر تو کل کیا جائے جس پر کلیۂ انحصار کر دیا جائے۔پس خدا تعالیٰ پر انحصار رکھو اور ان کی ایذا رسانی سے، ان کی تکلیف سے صرف نظر کرو۔آج کل جو جماعت احمدیہ پر حالات گزر رہے ہیں وہ بعینہ یہی حالات ہیں۔یہ وہ آیت ہے جو ایسے مجاہدہ کے وقت اطلاق پاتی ہو جبکہ دشمن سے مومنوں کی جماعت برسر پیکار ہو یہ مضمون یک طرفہ دکھوں کے زمانے کا مضمون ہے یہ مضمون ایسا ہے جبکہ ایک طرف سے حد سے زیادہ زیادتیاں ہورہی ہیں اور دوسری طرف سے کامل خاموشی ہے۔پس یہ مضمون در حقیقت مکی دور سے تعلق رکھنے والا مضمون ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مبارک زندگی میں ایک لمبا دور یکی دور بھی تھا تیرہ سال مسلسل بے انتہاء تکالیف میں سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ماننے والے