خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 868 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 868

خطبات طاہر جلدم 868 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۸۵ء مقابل پر زیادہ ہوتا ہے۔تو اس وقت میں ان کا ذکر نہیں کرتا وقت کے لحاظ سے بھی اور ویسے بھی مگر یہ میں آپ کو یہ بتا تا ہوں کہ بچے کیا اور بوڑھے کیا اور عورتیں کیا اور مرد کیا اس کثرت کے ساتھ ایسی عظیم الشان قربانیاں دے رہے ہیں کہ بعض دفعہ ان کے خطوط پڑھتے ہوئے بے اختیار آنسو چھلکنے لگتے ہیں۔دل سے دعائیں نکلتی ہیں ان لوگوں کے لئے ، رشک آتا ہے ان پر کہ کیسی غربت کے حالات میں کیسی تنگی کے حالات میں محض ابتغاء وجه الله خدا کے چہرے کی رضا حاصل کرنے کے لئے ، خدا کے نام پر قربانیاں دیتے چلے جارہے ہیں اور نہیں تھکتے۔حیرت انگیز جماعت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے۔کوئی اس کی مثال نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ اس جماعت کو ہمیشہ پہلے سے بڑھ کر ترقیات کے مقام پر فائز فرماتا چلا جائے۔قدم آپ نے اٹھانے ہیں لیکن فائز اللہ فرمائے گا۔قدم آپ نے اٹھانے ہیں لیکن مراتب اللہ کی طرف سے نصیب ہوں گے اس لئے اپنی نیتوں کو صاف کر کے خدا کی طرف بڑھتے رہیں۔مالی قربانیوں میں پہلے سے زیادہ ارادے باندھیں۔اگر توفیق نہیں ہے تو نذر کے پہلو کو یا درکھیں۔یہ عجیب مضمون ہے عجیب شان ہے اس آیت کی کہ جتنا آپ غور کریں اس کا مضمون پھیلتا چلا جاتا ہے کم نہیں ہوتا۔نذر کا مضمون ان غربیوں کے لئے بیان ہو گیا جن کو وقتی طور پر توفیق نہیں ہے تمنا ئیں لئے پھرتے ہیں دلوں میں۔فَمِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ (الاحزاب :۲۴) یہ اسی قسم کا مضمون ہے جو یہاں بیان ہو گیا کہ تم میں سے بعض ایسے ہیں جو خوش نصیب ہیں ان کو بڑی بڑی عظیم الشان قربانیوں کی توفیق مل گئی ایسے ایسے احمدی آج دنیا میں ہیں کہ جن کو، ایک ایک آدمی کو خدا کے فضل سے ایک ایک کروڑ روپیہ عملاً جماعت کے لئے پیش کرنے کی پچھلے ایک دو سالوں میں توفیق ملی ہے کسی زمانے میں آپ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ساری جماعت کا چندہ بھی ایک کروڑ نہیں ہوتا تھا لیکن ایک چندہ پر دوسرا چندہ حیرت انگیز طریق پر اللہ تعالیٰ نے یہ تو فیق عطا فرمائی ہے بعض کو کہ ان کا چندہ پچھلے چند سالوں کے اندر ایک کروڑ کے قریب پہنچ گیا تو بعض لوگ جب اس کو پڑھتے ہیں اور سنتے ہیں تو ان کے دل میں تمنا ئیں پیدا ہوتی ہیں۔مثلاً جب میں نے بتایا کہ ہم نے ایک قرآن کریم طبع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو خدا نے ایک آدمی پیدا کر دیا کہ سارا خرچ میں دوں گا۔دوسرے کا فیصلہ ہوا تو ایک اور آدمی پیدا کر دیا ، تیسرے کا