خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 862 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 862

خطبات طاہر جلد۴ 862 خطبه جمعه ۲۵ اکتوبر ۱۹۸۵ء ان کی اولادیں جانتی ہیں ، ان کی اولا دور اولا د جانتی ہے کہ جن لوگوں نے بھی خدا کی خاطر کچھ خرچ کیا تھا اس سے بہت بڑھ کر کوئی نسبت ہی نہیں چھوڑی خدا نے اتنا بڑھ کر ان کو پھر عطا فرمایا، انکو عطا کیا پھر ان کی اولادوں کو عطا کیا اور بعض دفعہ فوری طور پر ایمان اور اخلاص بڑھانے کے لئے گن کے بھی اتنا دے دیا کہ یہ خیال نہ ہو کہ شاید ویسے ہی ہمیں مل رہا ہے۔ چنانچہ بعض دفعہ ، کیا بڑی کثرت کے ساتھ ایسی مثالیں ہیں اور مجھے احمدی مخلصین لکھتے رہتے ہیں کہ عجیب شان ہے خدا تعالیٰ کے پیار کی کہ پیسہ کوئی نہیں تھا ، ایک ہزار پونڈ ہم نے دوسرے مقصد کے لئے رکھا ہوا تھا وہ ہم نے خرچ کر دیا اس میں اور بعینہ اتنی رقم ایک ایسے رستہ سے عطا ہو گئی جس کا ہمیں تصور بھی نہیں تھا ، وہم بھی کوئی نہیں تھا۔ اسی طرح پاکستان کے اور دوسرے ممالک کے دوست جو مالی قربانی ابْتِغَاء وَجْهِ اللهِ کرتے ہیں ان کے ساتھ خدا یہ سلوک فرماتا ہے لیکن یہ سلوک جو ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے صرف یہ ظاہر کرنے کی خاطر ہے کہ ایک مقتدر خدا ہے جو بالا رادہ یہ فعل کر رہا ہے تمہیں سمجھانے کی خاطر کہ جس نے یہ وعدہ کیا تھا تُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ وہ وعدے پورے کر رہا ہے۔ لیکن ہرگز یہ مراد نہیں کہ وہاں بات کو چھوڑ دیتا ہے۔ اکثر صورتوں میں اتنا عطا فرماتا ہے کہ وہ شخص پھر کاؤنٹ (Count) ہی بھول جاتا ہے، اس کی گنتی بھول جاتا ہے اور بعض دفعہ اولا دیں بد قسمتی سے یہ بھول جاتی ہیں کہ یہ ہمارے ماں باپ کی قربانیاں تھیں جن کا پھل ہمیں نصیب ہو رہا ہے۔ تو ساری دنیا زور لگا کے دیکھ لے ایسا بن کے دکھا دے یہ تو کھلا چیلنج ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غلاموں کے سوا آج کوئی نہیں ہے دنیا میں جس کے اندر یہ تین آیات کا مضمون عملی زندگی میں نظر آ رہا ہو۔ کتنا عظیم الشان مقام ہے اللہ خرچ کرنے والوں کا اور کتنا بڑا احسان ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کہ اس زمانے میں ہمیں صحابہ کی خصلتیں عطا فرمادیں۔ چودہ سوسال دور بیٹھے ہوئے لوگوں کو مختلف قوموں کے لوگوں کو مختلف نسلوں کے لوگوں کو ، مختلف ملکوں کے لوگوں کو مختلف براعظموں کے لوگوں کو ساری دنیا تک حضرت اقدس محمد مصطفی کا یہ فیض پہنچادیا جس کا ان تین آیات میں ذکر چل رہا ہے، پس بڑی خوش نصیبی ہے۔ صلى الله تحریک جدید کی جو تحریک حضرت مصلح موعود نے 1934ء میں فرمائی تھی اس کے ساتھ بھی