خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 852 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 852

خطبات طاہر جلدم 852 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۸۵ء بیان ہوا ہے۔بارہا جماعت کے سامنے پڑھی جاتی ہیں اور بار ہا احمدی اپنے طور پر بھی ان کی تلاوت کرتے ہیں۔لیکن جتنی دفعہ بھی ان پر غور کیا جائے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان آیات میں نئے مضامین بھی دکھائی دینے لگتے ہیں اور نیا ربط نظر آنے لگتا ہے۔آج میں نے ان آیات کا انتخاب اس غرض سے کیا ہے کہ میں آج اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان اور اس کی دی ہوئی توفیق کے مطابق تحریک جدید کے باون دیں سال کے آغاز کا اعلان کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں اور چونکہ تحریک جدید تہی قربانیوں میں ایک نمایاں امتیاز رکھتی ہے اور اس دور میں اس نے ایسی عظیم الشان مالی قربانیوں کی بنیاد ڈالی جو مختلف شکلوں میں مزید شاخیں اور پھل اور پھول دیتی رہی اور اس تحریک سے اور نئی نئی تحریکیں بھی پیدا ہوئی اور مزید ہورہی ہیں اور ہوتی چلی جائیں گی۔اس لئے ضروری ہے کہ جب بھی تحریک جدید کا یا دیگر مالی تحریکوں کا آغاز کیا جائے تو قرآن کریم سے برکت حاصل کرنے کے لئے اور قرآن کریم کے مضامین سے استفادہ کرنے کے لئے بعض آیات کا انتخاب کر کے وہ جماعت کے سامنے پیش کی جائیں۔یہ آیت وَمَا انْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ أَو نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرِ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ اَنْصَارِ اپنی ذات میں ایک مکمل مضمون بیان کر رہی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بات ختم ہو گئی ، اس کے بعد کسی اور مضمون کی ضرورت نہیں رہتی۔مگر بقیہ آیات جب اس مضمون کو پھر آگے بڑھاتی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کئی ایسے گوشے تھے جن کی وضاحت ضروری تھی۔اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ تم خرچ کرتے ہو کسی قسم کا خرچ یا نذر مانتے ہو کسی قسم کی بھی نذر فَإِنَّ اللهَ يَعْلَمُهُ اللہ اسے جانتا ہے۔مالی قربانی کرتے وقت خواہ وہ کسی رنگ کی ہو تحفہ ہو یا صدقہ ہو یا دکھاوے کے لئے ہو، کسی غرض سے بھی خرچ کیا جائے ، ہر خرچ کرنے والے کے سامنے ایک چہرہ ہوتا ہے جس کی وہ رضا چاہتا ہے۔دکھاوا کرنے والے بھی جب خرچ کرتے ہیں تو عوام کا چہرہ ان کے سامنے ہوتا ہے۔بغیر دکھاوے کے اور بغیر ایسے مقصد کے جس کے نتیجہ میں کوئی راضی ہو کوئی انسان کوئی چیز خرچ نہیں کرتا۔اپنے لئے بھی خرچ کرے تو خود جانتا ہے، اپنے بیوی بچوں کے لئے خرچ کرے تو اسے چین نہیں آسکتا جب تک ان کو پتہ نہ چلے کہ خرچ کرنے والا کون ہے۔اسی لئے پنجابی میں کہتے ہیں سوئے ہوئے بچے کا منہ چومنے کا فائدہ کیا ؟ اس کو پتہ نہیں چلتا کہ کون منہ