خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 78
خطبات طاہر جلد۴ خلاف متنبہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 78 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء ایسے ہی دیگر آیات قرآنیہ اپنے چیلوں کو سنا سنا کر گورنمنٹ سے 66 جنگ کرنے کے لئے مستعد کرنا چاہتا ہے۔شہادت قرآنی صفحه ۲۰ مطبوعہ ۱۹۰۵ ء اسلامیہ ٹیم پریس لاہور ) مخالفین کے ان تاثرات کو بڑی سنجیدگی سے لیا گیا چنانچہ اس زمانہ کا واحد انگریزی اخبار جو نہایت مؤقر سمجھا جاتا تھا اور بڑی دیر تک چلتا رہا یعنی سول اینڈ ملٹری گزٹ لا ہور اس میں ایک ادار یہ شائع ہوا جس میں انگریز قوم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بھڑ کایا گیا اور حکومت کو متنبہ کیا گیا کہ یہ نہایت خطرناک آدمی ہے اس کی باتوں میں نہ آئیں اس کی صلح پسندی صرف ظاہری ہے ورنہ یہ انگریزی حکومت کو تباہ و برباد کر کے رکھ دے گا۔جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنے آپ کو خود کاشتہ پودا تسلیم کرنے کا تعلق ہے اس الزام میں بھی ایسے دجل سے کام لیا گیا ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ انہیں کوئی خدا کا خوف نہیں ہے اور وہ تاثر یہ دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی ذات اور جماعت احمدیہ کے متعلق انگریز کا خود کاشتہ پودا ہونا تسلیم کر لیا ہے نعوذ باللہ من ذلک کہ میں انگریز کا لگایا ہوا پودا ہوں اور یہ سلسلہ انگریز کا ہی سلسلہ ہے حالانکہ اس تحریر کا یعنی جس میں خود کاشتہ کا ذکر ہے ، جو موقع پیدا ہوا وہ ان تحریروں سے واضح ہے جو میں نے آپ کو پڑھ کر سنا ئیں۔لیفٹیننٹ گورنر سرولیم میکورتھ سینگ جو شدید متعصب عیسائی تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عیسائیت کے ساتھ جو شدید جنگ جاری تھی اس کو وہ بڑی بری نظر سے دیکھ رہا تھا اسی گورنر کو مخالفین نے شکایتیں پہنچائیں اور کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی، انگریزی حکومت اور عیسائیت کا بڑا شدید دشمن ہے اسے ہلاک کر دو چنانچہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” مجھے متواتر اس بات کی خبر ملی ہے کہ بعض حاسد بداندیش جو بوجہ اختلاف عقیدہ یا کسی اور وجہ سے مجھ سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں یا جو میرے دوستوں کے دشمن ہیں میری نسبت اور میرے دوستوں کی نسبت خلاف واقعہ امور گورنمنٹ کے معزز حکام تک پہنچاتے ہیں اس لئے اندیشہ ہے کہ ان کے وو