خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 835 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 835

خطبات طاہر جلدم 835 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء سپین میں غرناطہ کے مقام پر بہت کثرت کے ساتھ وہاں طلب ہے اس قد رطلب ہے کہ جس علاقے میں ہم زمین دیکھنے جاتے تھے وہاں ایک خوشی کی لہر دوڑ جاتی تھی اور لوگ باتیں کرتے تھے علاقے والوں کو میئر کہتے تھے کہ ہمارے علاقے میں مسجد بنے گی۔فرانس کے مقابل پر اس قوم کا بالکل بر عکس رحجان ہے۔اخباری نمائندے بھی سوال کرتے تھے کہ بتاؤ کس علاقے کو تم نے چنا ہے۔چنانچہ وہاں متعدد جگہ پر زمینیں دیکھی گئیں اور ایک دو جگہیں جو پسند آئی ہیں ان کے متعلق گفتگو ہورہی ہے۔دونوں بہت ہی آباد سڑکوں پر واقع ہیں۔وسیع کشادہ سڑکیں جو بڑے بڑے شہروں کو ملاتی ہیں۔دونوں سڑک سے بالکل لگتی ہیں یا اتنی قریب ہیں کہ وہاں سے گزرنے والوں کو مسجد بڑی نمایاں طور پر نظر آئے گی۔ایک کا رقبہ تو خدا کے فضل سے بارہ ایکڑ سے بھی زائد ہے اور کونے کا پلاٹ ہے جس کے ایک طرف مین روڈ جاتی ہے اور ایک طرف چھوٹی سڑک جاتی ہے۔وہاں جب ہم گئے تو وہاں بھی ایک ہنگامہ ہو گیا۔لوگ وہاں اکٹھے ہونے شروع ہو گئے لٹریچر مانگ مانگ کر لوگ لینے لگے یہاں تک کہ میر محمود احمد صاحب جو ساتھ تھے۔کہنے لگے ہمارے پاس تو ختم ہو گیا ہے لیکن مطالبہ جاری تھی۔ایک شوق ایک طلب جو عموماً سپین میں پائی جاتی ہے جس کا اس زمین کے خریدنے کے موقع پر بھی مشاہدہ کیا۔سپین کا دورہ جہاں خدا کے تعالیٰ کے فضل سے کئی لحاظ سے بہت کامیاب بھی رہا اور کئی لحاظ سے دل پر نہایت غم کے اثرات چھوڑنے والا تھا اور سپین میں رہنا بہت ہی مشکل تجربہ تھا کیونکہ میں نے جیسا کہ سپین کے خطبہ جمعہ میں بھی ذکر کیا ہے کثرت سے ایسے گرجے وہاں پائے جاتے ہیں جو کسی زمانہ میں مسجد میں ہوا کرتی تھیں۔اب ان میں کوئی خدا کا نام لینے والا باقی نہیں۔اس کثرت سے ہیں کہ بعض شہروں میں جب پوچھا گیا کہ کوئی مسجد یہاں ہے پرانی کہ نہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ جس گرجے میں جاؤ وہ مسجد تھی۔چنانچہ جب ہمارے مشنری نے جا کر دیکھا تو پتہ چلا کہ واقعہ وہ صحیح کہہ رہے تھے۔جس گرجے میں وہ گئے پرانی مسجد کے آثار ملتے تھے ابھی تک بعض جگہ کلمہ توحید لکھا ہوا نظر آتا تھا۔بعض جگہ یہ تختیاں لگی ہوئی تھیں کہ فلاں بزرگ آئے تھے فلاں بادشاہ یہاں آئے تھے۔تو خوشکن تو اس لحاظ سے ہے کہ اہل سپین ہمیشہ سے ہی احمدیت کا خدا کے فضل سے کھلے بازوؤں سے استقبال کرتے ہیں لیکن دوسری جو فضا ہے وہ اس طرح یادوں پر اثر ڈالتی ہے کہ گہرے