خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 77
خطبات طاہر جلدم 77 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء پس یہ تو ہے ان لوگوں کا اپنا کردار اور ان کا ماضی جو آج احمد بیت پر بڑھ بڑھ کر الزام لگا رہے ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو صرف یہی ضرورت نہیں تھی کہ حسن خلق کے نتیجہ میں ایک محسن حکومت کا شکریہ ادا کریں بلکہ بعض ایسی وجوہات بھی تھیں جو خود مخالفین کی پیدا کردہ تھیں۔ایک طرف تو یہ علماء مسلمانوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بھڑکاتے تھے کہ آپ انگریز کی تعریف کرتے ہیں اور جہاد کے منکر ہیں جبکہ یہ حکومت اس لائق ہے کہ اس سے جہاد کیا جائے اور اسے ختم کیا جائے ، تباہ و برباد کر دیا جائے۔دوسری طرف انگریزوں کی تعریف میں وہ کلمات لکھ رہے تھے جو میں نے پڑھ کر سنائے ہیں اور تیسری طرف انگریزوں کو خفیہ بھی اور شائع شدہ درخواستیں بھی پیش کر رہے تھے کہ یہ نہایت ہی خطرناک آدمی ہے اس کی باتوں میں نہ آجانا ، یہ امام مہدی ہونے کا دعویدار ہے اور خونی مہدی ہے جو ساری انگریزی سلطنت کو تباہ کرنے کے لئے اٹھا ہے۔اس قدر منافقت، ظلم اور جھوٹ کہ ایک طرف مسلمانوں میں یہ اعلان ہو رہا ہے کہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے اور دوسری طرف انگریز کو یہ خبریں پہنچائی جارہی ہیں کہ یہ تو تمہاری قوم کا دشمن ہے اور تمہیں تباہ و برباد کرنے کے لیے اٹھا ہے اس لئے اس کو ہلاک کر دو۔چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی رسالہ اشاعۃ السنہ جلد ۶ حاشیہ صفحہ پر رقم طراز ہیں: رہی تھی۔اس کے ( یعنی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی۔ناقل ) دھوکہ باز ہونے پر یہ دلیل ہے کہ دل سے وہ گورنمنٹ غیر مذہب کی جان مارنے اور اس کا مال لوٹنے کو حلال اور مباح جانتا ہے“ دلیل بھی کیسی کمال کی ہے کہ دل سے جانتا ہے“ وو لہذا گورنمنٹ کو اس کا اعتبار کرنا مناسب نہیں اور اس سے پر حذر رہنا ضروری ہے ورنہ اس مہدی قادیانی سے اس قدر نقصان پہنچنے کا احتمال ہے جو مہدی سوڈانی سے بھی نہیں پہنچا۔ی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ دلی تصویر جو ان کے دلوں پر روشن ہو منشی محمد عبد اللہ صاحب انگریزوں کو مخاطب کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے