خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 76

خطبات طاہر جلدم 76 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء جہاں تک شیعوں کا تعلق ہے وہ بھی ایسی ہی تحریر میں پیش کرتے رہے۔علامہ علی حائری کا ایک اقتباس ہے جو موعظہ تحریف قرآن ، لا ہور اپریل ۱۹۲۳ء مرتبہ محمد رضی الرضوی اتھی پر درج ہے اس میں بھی اسی مضمون کی باتیں بیان کی گئی ہیں۔مولانا ظفر علی خان جو ایک وقت میں احرار کے ساتھ منسلک تھے اور بعد میں ان کو ملک و وطن اور اسلام کا غدار قرار دیا وہ ایک لمبے تجربہ کے بعد لکھتے ہیں: مسلمان۔۔۔۔۔ایک لمحہ کے لئے بھی ایسی حکومت سے بدظن ہونے کا خیال نہیں کر سکتے (یعنی انگریزوں سے۔ناقل )۔۔۔۔۔۔اگر کوئی بد بخت مسلمان، گورنمنٹ سے سرکشی کرے تو ہم ڈنکے کی چوٹ سے کہتے ہیں کہ وہ مسلمان، مسلمان نہیں، اخبار زمیندار لا ہوراا نومبر ۱۹۱۱ء) یہ ہے فتویٰ کہ حکومت برطانیہ کی سرکشی کرنے والا مسلمان مسلمان ہی نہیں رہتا۔پھر فرماتے ہیں: ”اپنے بادشاہ عالم پناہ کی پیشانی کے ایک قطرے کی بجائے اپنے جسم کا خون بہانے کے لئے تیار ہیں اور یہی حالت ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی ہے“ اخبار ”زمیندار“ لاہور ۲۳ / نومبر ۱۹۱۱ء) یہ حالت تھی جسے بدلنے کے لئے انگریزوں نے یہ خود کاشتہ پودا کھڑا کیا تھا؟ پھر نظم کی صورت میں فرماتے ہیں: سے جھکا فرط عقیدت سے میرا سر ہوا جب تذکرہ کنگ ایمپرر کا جلالت کو ہے کیا کیا ناز اس پر کہ شاہنشاہ ہے وہ بحر و بر کا زہے قسمت جو ہو اک گوشہ حاصل ہمیں اس کی نگاہ فیض اثر کا (اخبار زمیندار ۱۹ اکتوبر ۱۹۱۱ء)