خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 816
خطبات طاہر جلدم 816 خطبه جمعه ۴ را کتوبر ۱۹۸۵ء ہے اور ایسے ایسے دل اس تیزی کے ساتھ مائل ہورہے ہیں کہ جن دلوں کے متعلق و ہم بھی نہیں آسکتا تھا کہ مدتوں کی کوشش کے بعد بھی وہ دل پسیجیں گے بعض اوقات تو دیکھتے دیکھتے چند گھنٹے کے اندراندر کایا پلٹ جاتی ہے۔میں نے جماعت کو بار بار سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ یہ کیفیات ایسی ہیں جو انسانی ذرائع کے بس کی بات نہیں ہے۔اللہ مقلب القلوب ہے سوائے خدا تعالیٰ کے دلوں پر کسی کو کوئی قدرت حاصل نہیں۔آنا فانا دل بدل جایا کرتے ہیں محبتیں نفرتوں میں بدل جاتی ہیں، نفرتیں محبتوں میں بدل جاتی ہیں مگر اس پر محض اللہ کا تصرف ہے اور قرآن کریم خوب کھول کر اس بات کو آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے محمد ! تیرا بھی اختیار نہیں ہے دلوں پر۔لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ( الانفال :۶۴۰) تیرے جیسا حسین ، جاذب نظر وجود اور پھر فیاض ایسا ہو کہ جو کچھ ہے وہ خرچ کر دے اور تو ایسا وجود ہے کہ اگر ساری دنیا کے خزانے بھی تجھے ہم عطا کر دیتے تب بھی خدا کی راہ میں خرچ کر دیتا۔لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا کا مطلب یہ ہے اگر ہم تجھے زمین کے خزانوں پر قدرت دیتے تو اس کا طبعی نتیجہ، ایک لازمی نتیجہ یہ نکلنا تھا کہ تو نے سب کچھ خدا کی راہ میں لٹا دینا تھا تب بھی یہ دل تیرے لئے نہیں بدل سکتے تھے۔یہ اللہ ہے جس نے دلوں کو تبدیل کیا ہے اور باہمی محبت بھی پیدا کی ہے اور تیرے لئے بھی عشق پیدا کر دیا ہے۔یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جسے ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے اور جب دلوں کو بدلتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں تو حمد اور شکر کی طرف طبیعت مائل ہونی چاہئے نہ کہ اپنی کسی چالا کی یا اپنی کسی بڑائی کی طرف اور خصوصاً اس دور میں جس تیزی سے ہم جماعت کی طرف رحجان دیکھ رہے ہیں اس کے بعد تو حقیقی اندھا بھی ہو تو اس کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ انسانی کوشش کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔انسانی کوشش جو نظر آرہی ہے وہ بھی توفیق باری سینظر آرہی ہے۔اللہ تو فیق عطا فرما رہا ہے، خود ہلا رہا ہے پکڑ پکڑ کے ، خود چلا رہا ہے اور پھر وہ رستے آسان کرتا چلا جاتا ہے، لمبے سفر جلدی جلدی طے فرمارہا ہے اس لئے جیسا کہ میں نے وہاں توجہ دلائی تھی اب پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اس دوران دعا بہت کریں۔اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں کی جب یہ باتیں سنیں تو انکسار زیادہ طبیعت میں ہونا چاہئے ، پہلے سے بڑھ کر دعا کی طرف توجہ ہونی چاہئے ،حمد اور شکر میں پہلے سے بڑھ جانا چاہئے اور پھر دیکھیں