خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 75
خطبات طاہر جلدم 75 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء علاوه اَطِيْعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ کا مصداق انگریزوں کو ٹھہرایا ان میں مشہور انشاء پرداز ڈپٹی نذیر احمد کا نام بھی ہے"۔وو کتاب " عطاء اللہ شاہ بخاری صفحه ۱۳۵) اب سنئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے انگریزی سلطنت کے متعلق خیالات۔وہ لکھتے ہیں : سلطان روم ایک اسلامی بادشاہ ہے لیکن امن عامہ اور حسن انتظام کے لحاظ سے ( مذہب سے قطع نظر ) برٹش گورنمنٹ بھی ہم مسلمانوں کے لئے کچھ کم فخر کا موجب نہیں ہے اور خاص گروہ اہل حدیث کے لئے تو یہ سلطنت بلحاظ امن و آزادی اس وقت کی تمام اسلامی سلطنتوں (روم ، ایران ، خراسان) سے بڑھ کر فخر کا محل ہے“ (رسالہ اشاعۃ السنۃ جلد ۶ نمبر ، اصفحه ۲۹۳-۲۹۲) ی تھی کل تک ان لوگوں کی زبان ! پھر فرماتے ہیں: اس امن و آزادی عام وحسن انتظام برٹش گورنمنٹ کی نظر سے اہل حدیث ہند اس سلطنت کو از بس غنیمت سمجھتے ہیں اور اس سلطنت کی رعایا ہونے کو اسلامی سلطنتوں کی رعایا ہونے سے بہتر جانتے ہیں۔“ (رسالہ اشاعۃ السنۃ جلد ۶ نمبر، اصفحه: ۲۹۳-۲۹۲) یہ لوگ آج کہہ رہے ہیں کہ احمدیوں کو چونکہ اسلامی سلطنتیں پسند نہیں اس لئے یہ انگریزی راج میں پینے ، وہیں بڑھے اور چاہتے تھے کہ وہی حکومت ہمیشہ کے لئے رہے لیکن خودان کے آباء واجداد تو کل تک یہ فرمایا کرتے تھے کہ اسلامی سلطنتوں کی رعایا ہونے سے بہتر جانتے ہیں“ اب دیکھ لیجئے ان تحریروں میں ایسا کوئی ذکر نہیں ہے جیسا کہ حکومت کی تعریف سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وجہ بیان فرمائی ہے کہ سکھوں کے مظالم سے نجات بخشی، مذہبی آزادی دی اس لئے ہم تعریف کرتے ہیں مگر ان لوگوں کو تو ایسی وجوہات کے بغیر ہی انگریزی حکومت اسلامی سلطنتوں سے کل تک بہتر نظر آرہی تھی اور اہل حدیث جہاں کہیں وہ رہیں اور جائیں ( عرب میں خواہ روم میں خواہ اور کہیں ) کسی اور ریاست کی محکوم رعایا ہو نا نہیں چاہئے سوائے انگریز کے۔