خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 812
خطبات طاہر جلدم 812 خطبه جمعه ۲۷ ستمبر ۱۹۸۵ء عمومی فصلیں گندی تھیں۔تو سارے پھر کے دیکھا اکثر فصلیں بڑی خراب تھیں۔ایک علاقے میں گئے تو وہاں ساری فصلیں اچھی لہلہاتی ہوئی ، ہمارے وہاں جو مینیجر تھے ان سے حضرت صاحب نے پوچھا مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری اس وقت مینیجر ہوا کرتے تھے،حضرت صاحب نے پوچھا کہ مولوی صاحب ! آپ نے یہ کیا تدبیر کی ہے ؟ بڑے بڑے پرانے تجربہ کار زمیندار مینیجر ہیں اور ان کی فصلیں بالکل بے کار ہیں آپ کی فصل بہت اچھی ہے آپ کو کونسا نسخہ ہاتھ آ گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ حضور میں تو زمیندار ہوں ہی نہیں میرا تجربہ کوئی نہیں ، مجھے تو صرف ایک نسخہ ہاتھ آیا ہے۔میں نے ہر کھیت کے ہر کونے پر دو دو نفل پڑھے ہیں اور دعائیں کی ہیں۔اے خدا! میں کچھ نہیں جانتا سلسلے کام ہے، سلسلے کا مال ہے تو اپنے فضل سے برکت عطا فرما۔تو دیکھیں اب دنیا کی عقل میں یہ بات انہونی ہے اس کا تعلق ہی کوئی نہیں۔موسم بگڑے ہوئے ہیں ، فضا میں خشکی ہے، زمیندار کہتے ہیں کن نہیں پڑ رہا یعنی پھل نہیں پڑرہا۔یہ کیفیت ہر کھیت کی برابر ہے ایک ہی طرح کی زمینیں ہیں اور دو نفلوں کا ان سے کیا تعلق؟ کیا فضا میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے؟ کیا زمین میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے؟ مگر جو خدا ہر تقدیر کا مالک خدا ہے اس تک جب بات پہنچ جائے اور وہ فیصلہ کر لے کہ میں نے اس بندے کی بات قبول کرنی ہے تو پھر انہی حالات میں قوت کی ایک نئی لہر پیدا ہو جاتی ہے۔ہر چیز وہی رہتی ہے لیکن پھل میں فرق پڑ جاتا ہے۔تو یہ جماعت کے تجربہ کی باتیں ہیں۔ایک لمبے وسیع تجربہ کی باتیں ہیں کوئی ایک دو آدمی کے تجربہ کی بات نہیں۔کا کام آپ کو میں بار بار سمجھا رہا ہوں جب بھی کوئی مشکل ہو یا تبلیغ کرنے کو دل نہیں چاہتا۔اگر تبلیغ پر دوست مائل نہیں ہوتا یا شرم آتی ہے کہ میں ایک ساتھی سے جس سے ساری عمر کے اور طرح کے تعلقات ہیں اس سے تبلیغی بات کیسے کروں گا، دعا کریں۔دعا کریں تو وہ تبلیغ کی بات چھیڑ دے گا۔میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ بعض دفعہ بعض لوگوں کو تبلیغ کرنے کے لئے حالات نفسیاتی لحاظ سے سنگین ہوتے ہیں لیکن دعا کے نتیجہ میں اس کا دل اس طرف مائل ہو جاتا ہے اور بہت سے لوگ خطوں میں آج کل مجھے یہی لکھتے رہتے ہیں کہ سفر کر رہے تھے، سوچ رہے تھے کہ کیا کریں، کس طرح لوگوں کو مائل کریں؟ دعا کی تو دوسرے نے خود بات چھیڑ دی اور اس کے نتیجہ میں تبلیغ شروع ہو گئی۔تو جو آخری مرکزی نقطہ ہے اول بھی دراصل وہی کہنا چاہئے اور آخر بھی وہی وہ یہ ہے کہ بڑے