خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 811
خطبات طاہر جلد۴ 811 خطبه جمعه ۲۷ ستمبر ۱۹۸۵ء اس نے پوچھا کیا بات ہے اس نے کہا کہ ایک بیر پڑا ہوا ہے میرے سرہانے یہ ذرا اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دینا۔ مسافر کو بڑا غصہ آیا اس نے کہا تم بڑے ذلیل آدمی ہو مجھے راستہ چلتے گھوڑے پر سے اتارا کہ یہ بیر میرے منہ میں ڈال دو تم سے آپ نہیں اٹھایا گیا ۔ اتنے میں دوسرے آدمی نے بھی توجہ شروع کی کہ کیا گفتگو ہورہی ہے وہ بیچ میں بول پڑا۔ کہتا ہے جناب آپ کو اندازہ نہیں یہ کیسا ذلیل آدمی ہے ساری رات کتا میرا منہ چاہتارہا اس کمبخت نے ہش تک نہیں کہا۔ اتنا اس کو احساس نہیں پیدا ہوا۔ اتنی شرم نہیں آئی کہ ساتھ ہی لیٹا ہوا ہے، کتا اس کا منہ چاٹ رہا ہے کہ میں ہٹا ہی دوں ، اس کو ہش ہی کہہ دوں ۔ اس س شخص کی بات ہی چھوڑ و بڑا ہی نکما آدمی ہے۔ اس نے کہا آپ دونوں ہی معذور ہیں میں یہاں سے رخصت ہوتا ہوں۔ میں نے کہا اب اللہ کی تقدیر بیرگرا چکی ہے آپ کے سرہانے پڑا ہے اور آپ ہاتھ ہلا کر وہ بیر ہی اٹھا کر منہ میں نہیں ڈال سکتے ؟ اس وقت تو بیعتوں کا یہی حال نظر آ رہا ہے۔ نہ صرف پھل پکے ہیں بلکہ گر رہے ہیں آپ کے پاس پڑے ہوئے ہیں اگر آپ نے ان پھلوں کو نہیں اٹھایا تو جانو رکھائیں گے یا یہ گل سڑ جائیں گے۔ دشمنوں کے ہاتھ لگ جائیں گے۔ یہی موسم ہے تبلیغ کا اور خدا تعالیٰ کے عطا کردہ پھلوں سے استفادے کا۔ اس لئے دائیں بھی کوشش کریں، بائیں بھی کوشش کریں، آگے بھی پیچھے بھی ، اپنے سارے ماحول میں تلاش کریں کہاں سعید فطرت روحیں موجود ہیں اور ان کی طرف توجہ کریں محبت سے، پیار سے، اخلاص سے، اخلاق کے ساتھ۔ بعض دفعہ ان کو جھنجھوڑتے ہوئے اور پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے اندر کیسی تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور خاص طور پر دعاؤں سے کام لیں کیونکہ جیسا کہ میں بار بار بیان کر چکا ہوں سب سے بڑا خزانہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس دور میں ہمیں دیا ہے وہ دعاؤں کا خزانہ ہے۔ عجیب دولت عطا فرمادی ہے۔ ہر ستی کا علاج یہی دعا ہی ہے، ہر کمزوری کا علاج یہی دعا ہی ہے، ہر مسئلہ جو انسان کے لئے پیدا ہوتا ہے اس کو دعاحل کر دیتی ہے اس لئے دعا پر بہت زور دیں اور جو دعا کی عادت ڈالے گا وہ دیکھے گا کہ اس کے اعمال کے نتائج میں کتنا فرق پڑ جاتا ہے۔ عام آدمی بھی محنت کرتا ہے لیکن دعا کرنے والے کی محنت کو بہت زیادہ پھل لگتے ہیں ۔ ایک دفعہ حضرت مصلح موعود سندھ دورے پر گئے ۔ اس زمانے میں موسم خراب تھے اس لئے