خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 807 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 807

خطبات طاہر جلدم 807 خطبه جمعه ۲۷ ستمبر ۱۹۸۵ء اور ایک عرب نے بیعت کی ہے، ایک پاکستانی نے یہاں بیعت کی ہے۔تو خدا ہمیں پھل دے چکا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ تمہیں پھل نہیں ملے گا۔بہر حال جس طرح کی شدت اس کی تھی اسی طرح کی میں نے بھی شدت اختیار کی اور تھوڑی دیر کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے صاحب نرم پڑ گئے اور پھر دلچسپی بھی پیدا ہوگئی اور پوچھنے لگے کہ اچھا آپ کا اسلام ہے کیا؟ ہمیں بتا ئیں تو سہی؟ جب میں نے ان کو بتایا کیا فرق ہے آپ میں اور مسلمانوں میں۔میں نے بتایا کہ ہمارا فرق مسلمانوں سے ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے دوسرے فرقے اور عیسائی ایک طرف اور ہمارا عقیدہ الگ ایک طرف ہے۔آپ دونوں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو زنده آسمان پر مان رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ وہ خود آئیں گے اور ہم کہتے ہیں کہ کبھی بھی خدا کا کوئی بنده آسمان پر زندہ نہیں چڑھانہ کبھی آسمان سے اترا ہے۔یہ روحانی محاورے ہوتے ہیں جن کو وہ نہیں سمجھ سکتے۔بہر حال اس قسم کی بڑی تفصیل سے جب میں نے یہ باتیں سمجھا ئیں تو کچھ دیر کے بعد کہتا ہے کہ میں آپ کے ساتھ سو فیصدی متفق ہوں۔جو آپ کہہ رہے ہیں وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں میں نے کہا ابھی تو تم کہتے تھے کہ یہاں آپ کی بات کوئی نہیں مانے گا اور اس خدا نے تمہیں بھی بات ماننے والا بنا دیا ہے اور تمہارے منہ سے کہلوا دیا ہے کہ میں اب آپ کے ساتھ ہوں۔ہنس پڑا اور کہتا ہے کہ بات یہ ہے کہ میں کیتھولک چرچ کا نمائندہ ہوں۔کیتھولک چرچ کا اخبار ہے اس کا نمائندہ ہوں اس لئے میں مجبور ہوں۔آپ کی باتوں سے میں اتفاق کرتا ہوں لیکن میرا اخبار چھاپے گا نہیں اس لئے میں معذرت خواہ ہوں۔میں نے کہا مجھے تو صرف اللہ تعالیٰ کے فضل کا یہی نظارہ چاہئے تھا کہ جہاں تم کہہ رہے تھے تکبر سے کہ تم کیا کرنے آئے یہاں تمہاری بات کوئی نہیں مانے گا تمہیں خدا نے منوا کر بتادیا کہ اس طرح خدا بات منوایا کرتا ہے۔اور صرف یہی نہیں اسی پر یس کا نفرنس کا ایک اور پھل اللہ تعالیٰ نے اس طرح عطا فر ما دیا کہ کچھ عرب شیوخ آئے ہوئے تھے جہاں سے گزر کے پریس کانفرنس کے لئے ہم آئے وہاں وہ ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے۔واپسی پر میں نے ان کو السلام علیکم کہا اور گزر گیا۔دوبارہ جب ہم ظہر کی نماز کے لئے آئے ہیں تو وہی عرب دوست وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے مجھے پیغام بھجوایا کہ ہم آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔خیر وہاں ان سے ملاقات ہوئی۔سرسری ملاقات کا خیال تھا لیکن اچھا خاصا