خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 806
خطبات طاہر جلدم 806 خطبه جمعه ۲۷ ستمبر ۱۹۸۵ء اب میں جنوبی حصہ کی بات کرتا ہوں کہ فرینکفرٹ سے پھر ہم میونخ پہنچے۔میونخ کا علاقہ ایسا ہے جہاں ابھی کچھ عرصہ پہلے ہم نے مبلغ بھیجا ہے۔ارد گرد کچھ جماعتیں ہیں لیکن کوئی مرکز نہیں اور مبلغ بھی کرائے کے مکان میں رہتا ہے اور شہر بہت بڑا ہے اور میونخ گوار یا کا سب سے اہم مرکز ہے۔یہاں کے لوگ بھی اپنے مزاج کی خاص رعونت کے لحاظ سے مشہور ہیں اور عام لوگوں اور عام باتوں کو خاطر میں لانے والے لوگ نہیں ہیں۔تو باقی جرمن قوم کے مقابل ہمیشہ سے تاریخی طور یہی رویہ رہا ہے۔ان مشکل حالات میں وہاں کسی خاص غیر معمولی کامیابی کی توقع تو نہیں تھی مگر بہر حال چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے کام ہیں، اسی نے کرنے ہیں اس لئے جو وہاں پروگرام رکھا گیا غیروں کو بھی بلایا گیا ملاقات کے لئے مگر بہت زیادہ نہیں آئے۔جہاں تک سوال و جواب کی مجلس کا تعلق ہے میرا خیال ہے پندرہ میں مہمان تھے جو آئے تھے۔باقی احمدی ہی اردگرد سے اکٹھے ہو گئے۔جہاں تک پریس کانفرنس کا تعلق ہے اس میں بھی وہی رویہ تھا یعنی عدم تعلق تھا لا علمی کی وجہ سے۔فرینکفرٹ، ہیمبرگ وغیرہ میں تو خدا کے فضل سے جماعت کا ایک تاریخی کردار ہے جس سے لوگ واقف ہو چکے ہیں لیکن اس جنوبی حصے میں ابھی تک کوئی واقفیت نہیں۔چنانچہ سب سے زیادہ معاندانہ رویہ پریس کانفرنس میں میونخ میں اختیار کیا گیا۔تعداد کی کمی کے لحاظ سے بھی اور جو آئے ان کا رویہ بھی شروع میں معاندانہ تھا بلکہ تحقیر آمیز تھا۔پوچھا کہ آپ لوگ کیوں آگئے ہیں؟ کیا کرنا ہے آپ نے؟ کوئی آپ کی بات نہیں مانے گا لغو بات ہے آپ ہمارے ملک میں آکے عیسائیوں کو کچھ سنائیں گے ، یہ تو بے تعلق بات ہے۔اس لئے یہاں ہمیں اب ضرورت کوئی نہیں، یہ رویہ پریس کا تھا۔چنانچہ میں نے بھی ان کو جگانے کے لئے پھر اسی زبان میں ان سے گفتگو کی۔میں نے کہا آپ ساری دنیا میں چرچ پھیلا رہے ہیں اور ساری دنیا میں آپ تبلیغ کر رہے ہیں آپ کا یہ کیا حق ہے کہ ہمیں یہاں آنے سے روکیں؟ ہم ضرور آئیں گے آپ ہوتے کون ہیں ہمیں روکنے والے؟ یا تو اپنے چرچ بند کریں ساری دنیا سے اور Pack کر کے اکٹھے ہو جائیں یا پھر ہم پر آپ کو اعتراض کا کیا حق ہے؟ اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جرمن قوم یا اس علاقے کے لوگ مسلمان نہیں ہوں گے۔میں نے کہا کہ آپ کا تو بالکل غلط خیال ہے۔کل رات پہلی دفعہ چند گھنٹوں کی مجلس سوال جواب ہوئی تھی اور وہیں آپ کے علاقے کی جرمن خاتون نے بیعت کی ہے