خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 74
خطبات طاہر جلد۴ 74 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء ( باقیات اقبال۔مرتبہ سید عبدالواحد معینی ایم۔اے۔آکسن۔شائع کردہ آئینہ ادب۔انارکلی لاہور بار دوم صفحه ۹۰،۸۱،۷۶،۷۳) اہل حدیث اور دیوبندی فرقہ جو اس وقت جماعت احمدیہ کی مخالفت میں سر فہرست ہے اور آج کل حکومت کے دراصل یہی دست و بازو ہیں ان کے چوٹی کے عالم اور بزرگ شمس العلماء مولانا نذیر احمد دہلوی فرماتے ہیں: سارے ہندوستان کی عافیت اسی میں ہے کہ کوئی اجنبی حاکم اس پر مسلط رہے جو نہ ہندو ہو نہ مسلمان ہو کوئی سلاطین یورپ میں سے ہو (انگریز ہی نہیں جو بھی مرضی ہو یورپ کا ہو سہی ) مگر خدا کی بے انتہا مہربانی اس کی مقتضی ہوئی کہ انگریز بادشاہ آئے“ پھر فرماتے ہیں: مجموعه لیکچر ز مولانا نذیر احمد دہلوی صفحہ نمبر۴ - ۵ مطبوعہ ۱۸۹۰ء) کیا گورنمنٹ جابر اور سخت گیر ہے تو بہتو بہ ماں باپ سے بڑھ کر شفیق“ (ایضا صفحہ ۱۹) پھر فرماتے ہیں: میں اپنی معلومات کے مطابق اس وقت کے ہندوستان کے والیان ملک پر نظر ڈالتا تھا اور برما اور نیپال اور افغانستان بلکہ فارس اور مصر اور عرب تک خیال دوڑاتا تھا اس سرے سے اس سرے تک ایک متنفس سمجھ میں نہیں آتا تھا جس کو میں ہندوستان کا بادشاہ بناؤں (یعنی اگر میں نے خیالات میں بادشاہ بنانا ہوتا تو کس کو بناتا ) امیدواران سلطنت میں سے اور کوئی گروہ اس وقت موجود نہ تھا کہ میں اس کے استحقاق پر نظر کرتا پس میرا اس وقت فیصلہ یہ تھا کہ انگریز ہی سلطنت ہندوستان کے اہل ہیں سلطنت انہی کا حق ہے انہی پر بحال رہنی چاہئے۔ایڈیٹر رسالہ چٹان شورش کا شمیری صاحب لکھتے ہیں : (ایضاً صفحه ۲۶) جن لوگوں نے حوادث کے اس زمانہ میں نسخ جہاد کی تاویلوں کے