خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 794 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 794

خطبات طاہر جلدم 794 خطبه جمعه ۲۰ / ستمبر ۱۹۸۵ء نظر آتا ہے کہ تھوڑی دیر کے اندر ہی ان کی کیفیت بدل گئی، ان کی دلچسپی کا انداز بدل گیا اور بڑی حکمت کے ساتھ انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ہم احمدیت کے قائل ہوتے چلے جارہے ہیں۔چنا نچہ عبد اللہ صاحب نے مجھے بتایا کہ ایک نوجوان جو بڑا مضبوط اور توانائی سے بھر پور ہے۔اپنے جسم کے لحاظ سے بھی مضبوط اور جوان ہے اور ذہنی افتاد کے لحاظ سے، یعنی اپنی بات پر قائم اور سمجھ کر چلنے والا وہ عارضی طور پر صرف ایک رات کے لئے آیا تھا دوسرے دن بھی ٹھہر گیا اور پھر عبداللہ صاحب سے اس نے کہا کہ میری نوکری کا بھی سوال ہے جو شاید نکل جائے اگر میں واپس نہ جاؤں مگر کوئی پرواہ نہیں اب میرا جانے کو دل نہیں چاہتا اور وہ ٹھہر گیا۔تو حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ آنا فانا ان قوموں کے دل بھی بدل رہا ہے۔وہاں اخباری نمائندوں سے ملاقات ہوئی ہے تو شروع میں ان کے چہرے اور تھے ، ان کا رویہ اور تھا، اسلام کے خلاف تشدد پایا جاتا تھا اور بعض اعتراض تو بڑی سختی سے کئے لیکن جب خدا تعالیٰ نے مجھے جواب دینے کی توفیق عطا فرمائی تو دیکھتے ہی دیکھتے ان کے چہرے نرم پڑ گئے اور ان کی باتوں کا رخ بدل گیا۔وہ ساری ویڈیو ریکارڈڈ چیز ہے اور جرمن میں ہمارے ہیوبش صاحب اس کا ترجمہ کر رہے تھے۔ان کو بھی خدا تعالیٰ نے اس وقت ایسی توفیق عطا فرمائی کہ بیماری کی وجہ سے وہ پہلے ترجمے میں کچھ کمزور ہو گئے تھے لیکن اس وقت تو ایسا چلے ہیں جس طرح فرفر ایک دریا بہہ رہا ہو۔جب وہ جرمن زبان میں ترجمہ کرتے تھے تو بہت ہی گہرا اثر ان کی گفتگو کا دوسروں کے چہروں پر نظر آرہا ہوتا تھا۔یہاں تک کہ عبداللہ صاحب نے مجھے بتایا کہ وہاں کے پریس کا نمائندہ اپنے ساتھی کو کہہ رہا تھا کہ اب یہاں آدمی سوال کیا کرے؟ ہر سوال کا جواب ایسا آجاتا ہے کہ منہ بند ہو جاتا ہے۔مغربی پریس سے یہ تبصرہ جو ہے یہ معمولی بات نہیں۔بڑے آزاد منش لوگ ہیں خصوصاً اسلام پر حملہ کرنے میں تو بڑی دلیری دکھاتے ہیں۔پھر ایشائی ملک کا ایک آدمی جو پاکستان سے آیا ہو اس کے متعلق تو ان کے رویے ہی بالکل بدل جاتے ہیں اور وہی رویہ تھا جو شروع شروع میں نظر آرہا تھا۔تو یہ ایک مسلسل اللہ کی تقدیر کا ہاتھ دکھائی دے رہا ہے معمولی سی بصیرت بھی کسی میں ہو تو وہ اس کو دیکھنے سے رہ نہیں سکتا یعنی ہو نہیں سکتا کہ وہ اس حقیقت کو نظر انداز کر سکے۔اس لئے آپ خدا کی اس تقدیر کے ساتھ ساتھ چلیں۔اللہ نے جو پھل تیار کئے ہیں ان کو توڑنے کے لئے ہاتھ تو بڑھائیں۔