خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 793
خطبات طاہر جلد ۴ 793 خطبه جمعه ۲۰ / ستمبر ۱۹۸۵ء شخصیت میں ایک تبدیلی رونما نہ ہو جائے۔آج اس تبدیلی کی ضرورت ہے، آج ضرورت ہے کہ ہم ایسے نوجوان پیدا کریں جن کے اندر دنیا فرق محسوس کرنے لگے۔ان کی بات میں وزن آجائے ، ان کی اداؤں میں وقار پیدا ہو جائے۔جوان سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے وہ محسوس کر رہا ہو کہ میں کسی ایسی ہستی سے بات کر رہا ہوں جس کا تعلق بڑے لوگوں سے ہے۔شروع میں تو اس کو بڑے لوگ نظر آئیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ تو آپ کے پس منظر میں ہوگا کیونکہ جس طرح بڑے آدمی کے ساتھ رہ کر ، شاہوں کی مصاحبت میں پھر کر انسان کے اندر ایک نئی ادا پیدا ہو جاتی ہے اور دیکھنے والا محسوس کرتا ہے کہ اونچی مجالس سے آیا ہے۔تو جب خدا سے تعلق پیدا ہو تو کیسے کوئی محسوس نہیں کرے گا کہ بہت اونچی مجالس کا رہنے والا انسان ہے۔اس کے آداب، اس کی گفتگو، اس کا سلیقہ اس میں کوئی وزن ہے، کوئی وقار ہے ایک یقین ہے ایک خود اعتمادی ہے اور یہ چیزیں ہیں جنہوں نے دنیا فتح کرنی ہے۔پھر علم بھی خدا خود عطا فرماتا ہے اور ایسے ایسے دلائل پھر سکھاتا چلا جاتا ہے کہ ایک عام آدمی سے ویسے توقع نہیں ہو سکتی۔چنانچہ میرا یہ بھی تجربہ ہے کہ وہ احمدی جو خالصہ اللہ اللہ کی محبت میں دعوت الی اللہ کا کام شروع کر دیتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ خدا ہماری مدد کرے گا۔وہ جب اپنی تبلیغی رپورٹیں بھیجتے ہیں تو بعض دفعہ میں حیرت میں مبتلا ہوں کہ یہ نکتے ان کو کس طرح سمجھ آگئے۔کوئی تعلیم نہیں لیکن بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ دشمن نے ایک سوال اٹھایا جو بڑی عیاری سے اٹھایا گیا اور اس پر میرا دل چاہتا تھا کہ کاش یہ جواب دیتا اور اگلا فقرہ ہی اس کا وہ ہوتا تھا کہ پھر خدا نے میرے دل میں یہ بات ڈالی پھر میں نے یہ جواب دیا اور مسلسل اس طرح کے مضمون چلتے چلے جاتے ہیں۔میں ان لوگوں کو جانتا ہوں ان کی علمی حالت کا مجھے پتہ ہے۔ناممکن ہے ان کے لئے وہ باتیں کرنا جب تک ان کو خدانہ بتا رہا ہو۔بنیادی بات علم نہیں ہے بنیادی بات اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کا پیار ہے۔اس لئے آپ اس کی طرف توجہ کریں اور بے دھڑک ہو کر اس میدان میں کود پڑیں۔سارا جرمنی آپ کے لئے فتح کرنے کے لئے کھلا پڑا ہے اور یہاں بھی وہ رو چلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔جو دوست یہاں پرسوں کی مجلس میں تھے انہوں نے دیکھا ہوگا کہ بعض جرمن نو جوان جو بڑے مخلص احمدی ہیں وہ اپنے کچھ ساتھیوں کو لے کر آئے تھے۔کچھ اور دوسرے دوست بھی موجود تھے۔صاف اللہ کی تقدیر کا ہاتھ