خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 73 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 73

خطبات طاہر جلدم 73 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء انگریزوں کے متعلق کیا کہا کرتے تھے اور کیا لکھا کرتے تھے ، ان کے جذبات اور خیالات کیا تھے وہ ملاحظہ ہوں۔ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر آپ نے ایک مرثیہ لکھا اس میں فرماتے ہیں: میت اٹھی ہے شاہ کی تعظیم کے لئے اقبال اُڑ کے خاک سررہ گزار ہو صورت وہی ہے نام میں رکھا ہوا ہے کیا دیتے ہیں نام ماہ محرم کا ہم تجھے یعنی جس مہینے میں ملکہ وکٹوریہ فوت ہوئیں اقبال کہتے ہیں کہ اس مہینہ کا نام جو مرضی رکھ لو حقیقت میں یہ محرم کے واقعہ سے مختلف نہیں ہے، محرم میں جو دردناک واقعہ گزرا تھا یہ واقعہ اس کی ایک نئی صورت ہے۔چنانچہ مزید فرماتے ہیں: کہتے ہیں آج عید ہوئی ہے ہوا کرے اس عید سے تو موت ہی آئے خدا کرے یہ ہیں مجاہد ملت علامہ سر محمد اقبال جو احمدیت کی مخالفت میں سر فہرست شمار کئے جاتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ الزام لگانے میں آگے آگے ہیں کہ چونکہ آپ انگریز کی تعریف کرتے تھے اس لئے آپ انگریز کا پودا ہیں۔پھر لکھتے ہیں : ع اے ہند تیرے سر سے اُٹھا سایۂ خدا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ نے انگریزوں کو سایہ خدا کہا ہے جب کہ خود علامہ اقبال نے اس مرتبہ میں سایہ خدا کا لفظ استعمال کیا ہے۔اے ہند تیرے سر سے اٹھا سایہ خدا اک غمگسار تیرے مکینوں کی تھی، گئی ہلتا ہے جس سے عرش یہ رونا اسی کا ہے زینت تھی جس سے تجھ کو جنازہ اسی کا ہے