خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 789 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 789

خطبات طاہر جلد ۴ 789 خطبه جمعه ۲۰ / ستمبر ۱۹۸۵ء جلد پہلے افتتاح کے بعد موقع مل گیا۔اور وہ عمارت بھی بہت ہی کشادہ اور وسیع ہے اس کے دو بڑے ہال ہیں اور رہائش کے لئے ایک بہت اعلیٰ دومنزلہ فلیٹ ، اس کے ساتھ کمرے مزید رہائش کے لئے جہاں گنجائش ہے اس کے ساتھ غسل خانے اور دوسری سہولتیں ہیں۔پھر دوسری طرف اس کے دفتر کے لئے بہت وسیع کشادہ جگہ، پھر اس عمارت میں زیرزمین بہت بڑی گنجائش رکھی ہوئی ہے۔اس کے علاوہ مہمانوں کو ٹھہرانے کیلئے اس کے ایک کنارے پر کھلی جگہ ہے۔عمارت کا قبضہ ابھی نیا ہی لیا گیا ہے لیکن تھوڑے سے عرصے میں انہوں نے تیاری کر کے پچاس مہمانوں کے لئے وہیں جگہ بنالی تھی اور اگر اس کو پوری طرح استعمال میں لایا جائے ہر قسم کی ضرورتیں مہیا وہاں کر دی جائیں تو ایک بہت بڑا شاندار مرکز بن جاتا ہے۔یہ جتنی نئی جگہیں اللہ تعالیٰ عطا فرمارہا ہے پرانے سب مراکز سے اپنی گنجائش میں اور رقبے میں زیادہ ہیں۔اس کے ساتھ بھی ایک بہت ہی خوبصورت اور وسیع پائین باغ ہے اور وہاں دور تک سیر کی جگہ ہے اور وہ سارا اس عمارت کے ساتھ ہی ملحق ہے اور پھر ساتھ اور رقبہ بھی مل رہا ہے تا کہ کوئی بہت عظیم الشان مسجد بنانے کی اللہ تعالیٰ جب توفیق عطا فرمائے تو ساتھ کے رقبے میں وہ تعمیر کر لی جائے اور وہاں کا سارا علاقہ بیلجیئم کے بہترین علاقے پر مشتمل ہے اور برسلز کا وہ حصہ جو ساوتھ ویسٹ ہے یعنی جنوب مغربی اس میں نہایت اچھی قسم کے لوگ صاف ستھرے، جرائم سے پاک علاقہ ہے، مہذب تعلیم یافتہ لوگ ہیں اور باوجود اس کے کہ پہلے ایک لمبے عرصہ تک مبلغ کی موجودگی کے باوجود وہاں لوگوں کو توجہ نہیں تھی لیکن اس علاقے کے لوگوں نے غیر معمولی تعاون کیا ہے۔ہالینڈ کی طرح یہاں کے معززین بھی ارد گرد سے مسجد کے لئے پھولوں کے تحائف لے کر آتے رہے۔بعضوں نے اور تحائف پیش کئے، بعض مستقل لگانے کے لئے پودے لے کر آئے۔خدا نے دلوں میں ایسی محبت پیدا کر دی تھی کہ دیکھ کر حیرت ہوتی تھی اور یہاں بھی خدا تعالیٰ نے عربوں میں سے بعض معززین عطا فرمائے۔ایک عرب پروفیسر ہیں ان کے تو دل کی کیفیت یہ ہوگئی تھی کہ پہلے تو کہنے لگے کہ میں تو احمدی ہوں لیکن ابھی بیعت نہیں کروں گا اور پہلے میں لوگوں کو تیار کروں گا پھر وہ دوسرے دوستوں کو بھی لے کے آئے ان کو بھی تبلیغ کروائی۔پھر دوبارہ دوسرے دوستوں کو لے کر آئے