خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 787
خطبات طاہر جلد۴ 787 خطبه جمعه ۲۰ / ستمبر ۱۹۸۵ء جرمنی میں دعوت الی اللہ کے مواقع اور افضال الہی کا تذکرہ ( خطبه جمعه فرموده ۲۰ ستمبر ۱۹۸۵ء بمقام ہمبرگ جرمنی ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: گزشتہ خطبہ جمعہ میں نے نن سپیٹ ہالینڈ سے دیا تھا اور اس میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو قرآن کریم میں مومنین سے قطعی وعدہ فرمایا ہے کہ تم اگر میری خاطر دکھ اٹھاؤ گے تو میں تمہاری زمینیں وسیع کرتا چلا جاؤں گا۔یعنی تمہیں اپنی زمین میں لے آؤں گا اور اللہ کی زمین وسیع ہے، ان معنوں میں وہ وعدہ ہے اور یہ بھی بشارت ہے کہ اس دنیا میں بھی تمہیں نقد و نقد انعام ملیں گے اور آخری دنیا کے پھر انعام تو مقدر ہیں ہی اور یہ بھی وعدہ ہے کہ خدا کے انعامات کا سلسلہ لامتناہی ہوا کرتا ہے ، وہ کسی ایک جگہ جا کر ٹھہر نہیں جاتا۔تو جن کو خدا تعالیٰ کے وعدے اس دنیا میں ہی پورے ہوتے دکھائی دینے لگیں ان کے لئے دوہری خوشخبری یہ ہے کہ آخرت کے وعدوں پر بھی پہلے سے بڑھ کر ایمان پیدا ہو جاتا ہے۔جن کو اس دنیا میں کوئی خوشخبریاں پوری ہوتی دکھائی نہ دیں ان کے لئے آخرت کی امیدیں بھی موہوم ہیں سوائے اس کے کہ ایک امید لگائے بیٹھے ہیں اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں تبھی قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ خصوصاً ابتلاء کے دور میں اللہ تعالیٰ کے فرشتے یہ پیغام لے کر آتے ہیں کہ : نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ ( تم السجدہ :۳۲) ہم تمہارے ساتھ ہیں، تمہارے دوست بن کے رہیں گے اس دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔یہ بتانے کے