خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 783 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 783

خطبات طاہر جلدم 783 خطبه جمعه ۱۳؍ ستمبر ۱۹۸۵ء سے کوئی بھی ہم پورا کر سکیں گے کہ نہیں لیکن یہ کہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے منصوبے جو ہمارے حق میں آسمان میں بن رہے ہیں انہوں نے تو بہر حال کھلنا ہے اور انہوں نے پورا بھی ہونا ہے اور جو عمارتیں جو خدا تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہیں یہ جتنی بڑی نظر آرہی ہیں یہ مجھے یقین ہے کہ کچھ عرصہ کے اندر انشاء اللہ تعالیٰ یہ چھوٹی ہوتی دکھائی دیں گی اور جماعت کے کام بڑی تیزی کے ساتھ پھیلنے شروع ہو جائیں گے اس لئے ایک مرکز اور مرا کز کو جنم دے گا اللہ کے فضل اور اس کے رحم کے ساتھ۔اب ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہالینڈ کی جماعت کو اب یہ توفیق عطا فرمائے کہ اپنی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کو بڑھتی ہوئی دعاؤں کے ساتھ اور بڑھتی ہوئی محنت اور خلوص کے ساتھ پورا کرنے کی اللہ تعالیٰ ان کو تو فیق عطا فرمائے۔دعاؤں کے اوپر میں سب سے زیادہ زور دیتا ہوں اسی لئے اس کا آخر پر ذکر کرتا ہوں تا کہ آخری یاد جو ذہن میں نقش رہ جائے وہ یہ ہو کہ دعا کے بغیر کوئی چیز بھی ممکن نہیں۔تو ہالینڈ کی جماعت کو اب اپنے لئے دعا بہت کر نیچا ہیئے۔کیونکہ جب خدا تعالیٰ انعام کرتا ہے تو اس کا شکر ادا کرنا اور پھر یہ خدا سے توفیق مانگنی کہ ہم اس انعام کے اہل ہوں ، یا انعام ہمارے اندر رچ بس جائے ، ہمیں اس انعام کے سارے حقوق ادا کرنے کی توفیق ملے اور آئندہ بکثرت دوسرے انعامات کا پیش خیمہ بن جائے کیونکہ خدا کا یہ قانون ہے کہ جب آپ اس کا شکر ادا کرتے ہیں تو شکر کے مزید مواقع مہیا فرماتا ہے، اس لئے یہ چیز تو دعا کے بغیر ممکن نہیں اس لئے آپ دعا ئیں کریں خاص طور پر ہالینڈ کی جماعت اپنے لئے دعا کرے کہ اس انعام کا حق ادا کرنے کی خدا ان کو توفیق بخشے اور ہر مشکل جواس راہ میں پیش آئے اس کے لئے دعا کیا کریں کیونکہ میرا یہ تجربہ ہے اور ساری زندگی کا نچوڑ ہے کہ کام خواہ کتنا بھی آسان ہو جب دعا سے انسان غافل ہورہا ہو خیال ہی نہ آئے کہ اس کے لئے دعا کی ضرورت ہے تو اس میں بعض دفعہ مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں لیکن کام خواہ کتنا بھی مشکل ہواگر دعا کی طرف صحیح توجہ پیدا ہو جائے اور انسان اپنے دل میں عاجزی محسوس کرتے ہوئے اپنے آپ کو لاشئی محسوس کرتے ہوئے اسباب کو دیکھتے ہوئے بھی یہ سمجھتا ہو کہ یہ بے کار ہو جاتے ہیں ،ان کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوا کرتا اگر خدا کی یہ مرضی نہ ہو۔اس رنگ میں جب دعا کرے انسان تو ساری مشکلات دیکھتے دیکھتے یوں غائب ہو جاتی ہیں جیسے تھی ہی نہیں۔وہ مشکلات بالکل ایک بچے کا ڈراؤنا خواب لگتی ہیں کہ آنکھ کھل جائے تو نہ وہ خواب نہ وہ ڈر اور نہ وہ خوف کی جگہیں اسی طرح دعائیں مومن