خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 72
خطبات طاہر جلدم 72 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء الزام ختم ہو گیا اور آج ہماری کلیہ بر بیت ہوگئی ہے۔زندگی میں یہ دور تو آتے جاتے ہیں۔جب بھی جہالت بڑھتی ہے تو اس قسم کی حرکتیں ہوتی رہتی ہیں، اس لئے بحث یہ نہیں کہ سکھ بہت برا کرتے تھے بحث یہ ہے کہ اس مصیبت سے جس قوم نے مسلمانوں کو نجات دلائی ہو اس کا اگر شکر یہ ادا نہ کیا جائے تو یہ کون سی انسانیت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایک الزام ہے کہ آپ اپنے آپ کو خود کاشتہ پودا کہتے ہیں اور پھر یہ بھی الزام ہے کہ آپ کو انگریز نے جہاد موقوف کرنے کے لئے کھڑا کیا۔ان سب باتوں کا میں الگ الگ جواب دوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے الفاظ سے ایک بات تو بڑی واضح طور پر ملتی ہے کہ آپ کسی خوشامد کی غرض سے یہ تعریفیں نہیں کرتے تھے بلکہ اسلامی فرض کے طور پر اعتراف حقیقت تھا اس سے بڑھ کر اس کی کوئی اور شکل وصورت نہیں نکلتی۔آپ فرماتے ہیں: " پس سنواے نادانو ! میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسی گورنمنٹ سے جو دین اسلام اور دینی رسوم پر کچھ دست اندازی نہیں کرتی اور نہ اپنے دین کو ترقی دینے کے لئے ہم پر تلوار میں چلاتی ہے۔قرآن شریف کی رو سے جنگ مذہبی کرنا حرام ہے کیونکہ وہ بھی کوئی مذہبی جہاد نہیں کرتی۔“ کشتی نوح حاشیه روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه: ۷۵) پھر فرماتے ہیں: ” میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں کیونکہ میں نے کسی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھا۔“ (کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۴۰) یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا موقف تھا لیکن وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ چونکہ آپ نے انگریزوں کی تعریف کی ہے اس لئے انگریز کا ایجنٹ ہونا ثابت ہو گیا۔اب ان کے کلمات سنئے۔ان میں سے سب سے زیادہ اہم شخصیت جسے حکومتی رسالہ میں اچھالا گیا وہ علامہ سر محمد اقبال کی شخصیت ہے۔آپ اس زمانہ میں