خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 780 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 780

خطبات طاہر جلدم 780 خطبه جمعه ۱۳ار ستمبر ۱۹۸۵ء لئے ہم نے رکھی ہوئی ہیں۔بڑی بڑی جو Dormitories ہیں یا ہالز ہیں وہ ہماری روز مرہ کی ضرورتوں اور جلسوں وغیرہ کے لئے بھی چھوٹے ہو جاتے ہیں۔وہ تو چند مہینے کے اندر اندر دیکھتے دیکھتے اسلام آباد بڑا ہونے کی بجائے وہ چھوٹا نظر آنے لگ گیا ہے۔اس لئے جب اللہ تعالیٰ کا جب یہ سلوک ہے تو میں تو دعا کرتا ہوں کہ پرسوں کی بجائے یہ Complex ہمارے لئے کل چھوٹا ہو جائے۔جتنی تیزی سے ہم ترقی کریں گے اتنی تیزی کے ساتھ ہماری عمارتیں ہمارے پیچھے رہنا شروع ہو جائیں گی اور ان کا چھوٹا ہونا اللہ کا انعام ہے یہ کوئی بری خبر نہیں ہے کہ جگہ تنگ ہوگئی ہیں۔میں اس کی مثال ہمیشہ یہ دیا کرتا ہوں جماعت کو بار بار سمجھانے کے لئے کہ ماں جس بچے کے کپڑے چھوٹے ہوا کریں جلدی جلدی آج ایک کپڑا بنایا کل وہ بچے کا قد او پر نکل جائے اور چھوٹا ہو جائے بوٹ خرید نے پڑیں بار بار اور وہ چھوٹے ہو جائیں تو وہ یہ دعا تو نہیں کیا کرتی کہ اے اللہ ! اس بچے کا قد روک لے، یہ بڑا ہونا بند ہو جائے ، مجھے مصیبت پڑی ہوئی ہے، کپڑے بنا بنا کر تھک جاتی ہوں اور پھر بھی چھوٹے ہو جاتے ہیں، وہ تو دیکھ دیکھ کر نہال ہوتی ہے۔وہ تو کہتی ہے کپڑے میرے بچے کو لگ جائیں لیکن یہ بڑھتا رہے۔تو جماعت کے ساتھ خلفاء کا یہی ہوتا ہے تعلق۔بڑھتی رہیں اور جگہیں چھوٹی ہوتی رہیں وہ تو نہال ہوتے رہیں گے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ایک موقع پر فرمایا تھا یہ کام میرے دل میں اس قدر اس کیلئے جوش ہے کہ اگر مجھے اپنے کپڑے بھی بیچنے پڑیں تو تب بھی میں لگادوں گا۔لیکن جماعت کو اللہ نے اتنا اخلاص بخشا ہے کہ اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، محاورے کے طور پر یہ استعمال ہوتی ہیں باتیں عملاً اس کا موقع نہیں پیش آتا لیکن تمنا کے لحاظ سے یہ بات درست ہے کہ خصوصیت کے ساتھ خلیفہ وقت کو تو ایسا عشق ہے جماعت کی ترقی کے ساتھ کہ اگر اس کی ساری محنتیں کسی عمارت کو وسعت دینے میں خرچ ہو جائیں اور وہ عمارت چھوٹی ہو جائے تو اس کو یہ افسوس نہیں ہوگا کہ میری محنتیں ضائع گئیں۔وہ نہال ہو جائے گا اس بات پر ، وہ خدا کے حضور قربان ہو گا خوشی کے ساتھ الحمد للہ ہماری محنتوں کو پھل لگ گیا۔تو اس لحاظ سے دعائیں کریں کہ یہ جو مرکز لوگوں کو آج بڑا نظر آ رہا ہے اور حقیقتاً اس وقت تو ہمیں بڑا نظر آرہا ہے یہ دیکھتے دیکھتے چھوٹا ہو جائے اور بڑی تیزی کے ساتھ جماعت یہاں ترقی کرنے لگے۔