خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 779 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 779

خطبات طاہر جلدم 779 خطبه جمعه ۱۳؍ ستمبر ۱۹۸۵ء لئے میں سمجھتا ہوں کہ ماحول اچھا ہے۔دوسرے ہالینڈ جماعت احمدیہ کے معاملے میں عموماً بہت شریفانہ سلوک کر رہا ہے جو سب کمیشن (Sub Comission) جو معاملہ پیش کیا تھا جماعت کے متعلق اور اس سے پہلے جو ان کے مخفی اجلاس میں معاملہ در پیش تھا اس میں مسلسل ہالینڈ نے جماعت احمدیہ کی حمایت کی ہے۔یہاں کے اخبارات بھی تعاون کرتے ہیں۔یہاں کی حکومت جس طرح بھی ممکن ہے ان کے لئے ہمدردانہ رویہ رکھتی ہے تو جو لوگ خدا کے بندوں سے شریفانہ سلوک کیا کرتے ہیں یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ ان کو جزا نہ دے اور اس سے بہتر جزاء کوئی نہیں ہوسکتی کہ اللہ تعالیٰ اپنی ہدایت کے لئے ان لوگوں کو چن لے ان پر فضل نازل فرمائے۔تو جو بنیاد میں قائم ہورہی ہیں ، جو آثار مجھے دکھائی دے رہے ہیں اور جس رنگ میں ہالینڈ کے نوجوان احمدی خدا کے فضل سے منہمک ہو گئے ہیں تبلیغ میں اس سے میں امید رکھتا ہوں کہ اس Complex کو اللہ تعالی جلد از جلد بھرنا شروع کر دے گا یعنی خالی عمارتیں استعمال میں آجائیں گی۔اور بھی کئی استعمال ہیں جو اس وقت میرے ذہن میں ہیں۔کل جو بروکر (Broker) تشریف لائے ہوئے تھے اُن کا یہ خیال تھا کہ اتنی چھوٹی سی جماعت کے لئے اتنی بڑی عمارت ہے تو کیوں نہ کرایہ پر چڑھائی جائے۔چنانچہ انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ C بلڈنگ جس کو میں نے کہا ہے اُس بلڈنگ کو آپ کرایہ پر دے دیں تو دس ہزار پونڈ سالانہ کر ایل جائے گا اس سے اندازہ کریں بلڈنگ کی حالت کیا ہے اور کتنی وسیع ہے۔یعنی دولاکھ روپیہ سالانہ کرایہ یہ صرف اسی عمارت کا مل سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ کی باقی ساری عمارتیں آپکی ضرورت سے زیادہ ہیں تو آپ اس کو کیوں نہیں دے دیتے۔میں نے کہا یہ فیصلہ تو ہم اس طرح آنا فانا نہیں کر سکتے تسلی سے کریں گے، دیکھیں گے مگر میں تمہیں اتنا بتا دیتا ہوں کہ جب چھ مہینے پہلے ہم نے اسلام آبا دلیا تھا تو وہاں بھی لوگوں کو وہم تھا کہ اتنے بڑے Complex کو کس طرح سنبھالیں گے ، کس طرح وہاں عمارتیں خالی خولی خلخل کریں گی اور ہمارے لئے ممکن نہیں ہوگا، دیکھ بھال پر اتنا خرچ کرنا پڑے گا اور میں نے اس کو کہا، آنے سے پہلے ، تین نئے مربیوں کے کواٹرز کے بنانے کا آڈر دے کر آیا ہوں، اتنی جگہ تنگ ہوگئی ہے فوراً۔اللہ تعالیٰ تو جب جگہیں وسیع دیتا ہے تو کام بھی بڑھا دیتا ہے۔وہاں تو اب جگہیں تلاش کرنی پڑتی ہیں کہ فلاں دفتر کے لئے کس طرح جگہ مہیا کی جائے اور جو بیرکس ہیں وہ تو بہر حال سکولز کے