خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 778
خطبات طاہر جلد ۴ 778 خطبه جمعه ۱۳ ستمبر ۱۹۸۵ء رہائش گاہ کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تین منازل ہیں اور کچن ان کے لئے الگ ہیں Toilets ، ہر قسم کی سہولتیں ساتھ اور اس کے لئے ان کو مزید کسی تعمیراتی تبدیلی کی ضرورت نہیں وہاں یعنی ہمارے ہاں سے جس طرح قیام کا رواج ہے یہاں چھوٹا سا ایک سالانہ جلسہ یہاں کیا جائے تو جلسہ سالانہ قادیان کے جو نقوش لوگوں کے ذہن میں موجود ہیں جن کو ربوہ میں بھی ہم نے زندہ کیا اور قائم رکھا خدا کے فضل سے وہی اب غیر ملکوں میں منتقل ہوتے چلے جارہے ہیں اور ڈال Mattresses زمین پراگر اللہ اسلام آباد میں بھی وہ نقوش منتقل ہو کر ثبت ہو چکے ہیں اسلام آبادیوں کے میں ۔ بادیوں کے میں ۔ تو ہالینڈ میں بھی انشاء وہی نقوش یہاں ثبت ہو جائیں گے اور اسی طرز پر ہم یہاں رہائش اختیار کریں گے جس طرح قادیان یار بوه یا اب اسلام آ اب اسلام آباد میں شروع ہوئی۔ تو اس لحاظ سے ہم زمین پر ڈال کران ہالوں کو استعمال کریں تو بعض کا اندازہ تو یہ تھا کہ پانچ یا چھ سو تک مہمان یہاں ٹھہر سکتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ تین سویا چارسو کے درمیان 4 سو تک غالباً آسانی سے Accommedate ہوسکیں گے۔ اب یہ بائیس کمرے جو اوپر ہیں ان میں بھی 66 کی گنجائش ہے اور نیچے جو ہال ہیں ان کو شامل کر لیا جائے تو اس عمارت میں بھی ایک سو کی گنجائش ہے ۔ تو اس لئے امید ہے کہ چار سو پانچ سوتک یہاں مہمانوں کی گنجائش نکل آئے گی اور پھر ان کی ضروریات بھی ساری یہیں سے مہیا ہو جائیں گی ۔ کسی نئی تعمیر کی ضرورت نہیں۔ تو عملاً خدا تعالیٰ نے ایک یوروپین مرکز ہمیں عطا فرما دیا ہے اور ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا خریدتے وقت کہ کیا ہو رہا ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ ہالینڈ کے لئے خوش خبری ہے ۔ اگر ہالینڈ کو ضرورت نہ ہوتی اتنی وسیع جگہوں کی تو خدا تعالیٰ کو اتنی بڑی جگہ دینے کی ضرورت نہیں تھی ۔ نہ ہم نے مانگی تھی اتنی بڑی جگہ، نہ وہم تھا کہ مل جائے گی ۔ یہ خود بخود تقدیر گھیر گھار کے یہ جگہ ہمارے لئے لے آئی اور تحفہ پیش کر دی ہے۔ اتنی تھوڑی قیمت پر اتنا بڑا رقبہ مل جانا پھر سوا یکڑ رقبہ ہے اس کا ۔ جو ہالینڈ کے لحاظ سے ایک بہت بڑا رقبہ ہے خدا کے فضل کے ساتھ۔ تو اس میں مجھے تو خدا تعالیٰ کی یہ تقدیر دکھاتی نظر آتی ہے کہ ہالینڈ میں انشاء اللہ جماعت کی ترقی ہوگی اور آثار اس کے نظر بھی آ رہے ہیں ۔ ایک تو ہالینڈ کے جو احمدی Hollandish (اصلی باشندے ) ہیں جو کچھ پیچھے تھے بہت آگے آچکے ہیں اب اور تبلیغ کا سب کو شوق ہے اور فدائی ہیں اور متوازن ہیں ذہنی Extremes نہیں ہیں اس