خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 71

خطبات طاہر جلدم 71 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء اس پر کھانا پکا لیتے تھے یعنی پانچ جوتے اس پر مارنا اس کو پاک ہونا سمجھتے تھے۔“ یہ وہ سکھ راج والے تھے جن کے چنگل سے انگریز نے آکر مسلمانوں کو نجات دی ہے اور مختلف تاریخوں میں ان سے متعلق بڑے تفصیلی اور دردناک حالات ملتے ہیں۔”سوانح احمدی ( مؤلفہ محمد جعفر تھانیسری ) میں حضرت سید احمد صاحب بریلوی ( جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے مجدد ہیں ) کا ایک بیان شائع شدہ ہے آپ فرماتے ہیں: ”ہم اپنے اثناء راہ ملک پنجاب میں ایک کنویں پر پانی پینے کو گئے تھے۔ہم نے دیکھا کہ چند سکھنیاں (سکھوں کی عورتیں ) اس کنویں پر پانی بھر رہی ہیں۔ہم لوگ دیسی زبان نہیں جانتے تھے ہم نے اپنے مونہوں پر ہاتھ رکھ کر ان کو بتلایا کہ ہم پیاسے ہیں ہم کو پانی پلاؤ۔تب اُن عورتوں نے ادھر ادھر دیکھ کر پشتو زبان میں ہم سے کہا کہ ہم مسلمان افغان زادیاں فلانے ملک اور بستی کی رہنے والی ہیں یہ سکھ لوگ ہم کو زبردستی لائے“۔(سوانح احمدی صفحه ۲۴) پس یہ تو حضرت سید احمد صاحب بریلوی کی سوانح حیات میں ذکر ہے۔علاوہ ازیں انسا ئیکلو پیڈیا میں سکھوں کے مظالم سے متعلق جو تفصیلات دی گئی ہیں وہ بھی بہت ہی دردناک ہیں جن میں کثرت کے ساتھ مسلمان عورتوں کی بے حرمتی کا ذکر کیا گیا ہے۔مسجدوں کو برباد کرنا ، ان میں گدھے باندھنا، مسلمانوں کا قتل عام اور اذان دینے پر قتل کر دینا۔یہ ساری باتیں اس میں مذکور ہیں۔پس یہ وہ زمانہ تھا جس میں مسلمانوں کو سکھوں کی طرف سے زندگی کے ہر حق سے محروم کیا گیا تھا۔خیر ! اذان دینے سے تو آج بھی محروم کیا جارہا ہے یہ اب پرانی بات نہیں رہی۔اس زمانہ میں بھی ایسے نئے لوگ پیدا ہو گئے ہیں کہ جنہیں اذان کی آواز تکلیف دیتی ہے۔حال ہی میں ہندوستان کے ایک سکھ نے اخبار میں ایک خط شائع کروایا ہے جس میں وہ لکھتا ہے کہ ہمیں بڑا لطف آیا کیونکہ مسلمان کسی زمانہ میں سکھوں کو چھیڑا کرتے تھے کہ تم ایسی جاہل قوم ہو کہ مسلمانوں کی اذان سے تم بھرشٹ ہو جایا کرتے تھے اور تم نے زبر دستی مسلمانوں کی اذانیں بند کر وا دی تھیں۔تو وہ کہتے ہیں کہ آج ہمارا دل ٹھنڈا ہوا ہے کہ مسلمانوں نے بھی مسلمانوں کی اذانیں بند کروائی ہیں۔آج ہم پر وہ